خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 232

خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۳۶ آ جاتے تو خواہ کچھ فیصلہ ہوتا ہم خاموش ہو جاتے اور خیال کر لیتے ہیں کہ آخری عدالت تک پہنچ گئے ہیں۔اس صورت میں حالات کو ماننے کیلئے تیار تھے کہ آخر کہیں پہنچ کر تو خاموش ہونا ہی تھا۔اور اب بھی جس حصہ کا فیصلہ ہائی کورٹ نے کیا ہے ہم عملاً اس کی عزت کر رہے ہیں حالانکہ اس کی سے بھی ہماری تسلی نہیں ہوئی لیکن جس حصہ کے زیر بحث لانے میں حکومت روک بن گئی ہے اس کی کے متعلق ہماری شکایت کے ازالہ کی کیا صورت ہے۔پس گو ہم امن پسند ہیں قانون و عدالت کا کی احترام ضروری سمجھتے ہیں مگر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔جس قربانی کا کسی سے مطالبہ کیا جاتا ہے اس کی ایک حد ہونی چاہئے۔جس شخص کا ایک پیسہ ضائع ہو رہا ہو وہ ہم سے امید کر سکتا ہے کہ ہم اپنا ای دھیلا ضائع کر کے اس کا پیسہ بچالیں اور یہ خیال کرلیں کہ وہ غریب آدمی ہے اس کا پیسہ ضائع نہ ہو بلکہ وہ امید کر سکتا ہے کہ ہم اپنا پیسہ ضائع کر کے بھی اس کا پیسہ بچا لیں گے۔حتی کہ دو پیسہ، آنہ دو آ نه بلکہ روپیہ تک ضائع کر کے اس کا پیسہ بچا لیں کیونکہ اس غریب کا پیسہ بہت قیمتی ہے۔مگر وہ اگر یہ مطالبہ کرے کہ فلاں شخص کے پاس دس کروڑ کی جائداد ہے وہ اسے برباد کر کے میرا پیسہ بچالے تو یہ دانشمندانہ مطالبہ نہیں کہلائے گا۔پس ہم گو قربانی کے قائل ہیں۔حکومت ،عدالت اور قانون کے ادب اور احترام کے قائل ہیں مگر ہر عقلمند یہ تسلیم کرے گا کہ قربانی نسبتی ہوتی ہے۔قربانی کے وقت ہمیشہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کون سی چیز بڑی ہے جس کیلئے قربانی کی ضرورت ہے یا خود وہ چیز جس کی ای قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔حکومت ہم سے فرمانبرداری کا مطالبہ کرتی ہے اور ہم اس مطالبہ کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کی خاطر دوسروں سے ہمیشہ لڑتے رہے ، گالیاں سنتے اور ماریں کھاتے رہے، حکومت کی فرمانبرداری کی وجہ سے ہمارے خلاف فتوے دیئے گئے مگر ہم پھر بھی یہی کہتے رہے ہیں اور اب بھی ہمارا یہی مسلک ہے کہ حکومتِ وقت کی فرمانبرداری کرنی چاہئے۔مگر جہاں حکومت کی ہزاروں باتوں میں ہم سے فرمانبرداری کی توقع رکھتی ہے وہاں کیا وہ یہ امید بھی کر سکتی ہے کہ وہ ہم سے کہے کہ نماز چھوڑ دو تو ہم اس کی فرمانبرداری کریں۔اگر وہ ایسا مطالبہ کرے تو ہم فوراً اسے جواب دیں گے کہ آپ کا ملک آپ کو مبارک ہو ہم جاتے ہیں اور اگر جانے بھی نہ دے گی تو پھر ہمیں اس سے جہاد کی اجازت ہوگی اور ہم ظاہراً یا خفیہ طور پر جس طرح ممکن ہوگا اسے نقصان پہنچائیں گے اور یہ ایسی صورت ہے کہ حکومت بھی اس کی معقولیت کا انکار نہیں کر سکتی۔کسی کی