خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 231

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء کر سکتے تھے کہ ان کی جگہ دوسری حکومتیں آجائیں گی ، اہل مصر تو شاید انگلستان کا نام بھی نہ جانتے ہوں جس نے خدیو ں کے ذریعہ وہاں حکومت کرنی تھی۔وہ فرانس کے نام سے بھی نا آشنا تھے۔لیکن نپولین نے ان کا تمام ملک تہ و بالا کر دیا۔پھر کیا انگریز خیال کر سکتے ہیں کہ ان کی حکومت کی ہمیشہ رہے گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ کل تک بھی قائم رہے یا سال تک رہے گی یا ایک صدی تک ، بہر حال کوئی حکومت ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی ہے۔اس کے انصاف کا نام قائم رہ جاتا ہے۔رومی حکومت مٹ گئی مگر اس کا ایک ظلم اور ایک انصاف آج تک قائم ہے۔رومی حکومت کا یہ ظلم ہمیشہ یاد رہے گا کہ اس نے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو بے گناہ صلیب پر لٹکا دیا اور پیلاطوس کا یہ انصاف بھی ہمیشہ یادر ہے گا کہ باوجود یکہ اسے دھمکی دی گئی کہ بادشاہ کے حضور اس کی رپورٹ کی جائے گی۔اس نے پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے اور کہہ دیا کہ میں مسیح کو بالکل بے گناہ سمجھتا ہوں۔پیلاطوس کا یہ انصاف اور حکومت روم کا یہ ظلم دونوں باتیں نہیں مٹیں مگر حکومت روم مٹ چکی ہے۔موجودہ انگریزی افسر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیشہ رہیں گے ، ان کی نسلیں بھی ہمیشہ نہیں رہیں گی ، حکومت بھی ہمیشہ نہیں رہے گی مگر ان کے افعال باقی رہ جائیں گے۔آج اگر وہ انصاف کریں گے تو لوگ کہیں گے کہ انگریزی حکومت بڑی اچھی تھی اس نے اقلیت سے انصاف کیا اور اکثریت کی پرواہ نہ کی لیکن اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو آئندہ مؤرخ یہی لکھیں گے کہ وہ انصاف کے دعوے تو بہت کرتی تھی مگر جب وقت آیا تو افسوس کہ وہ فیل ہو گئی۔کچھ مظلوم لوگ تھے جو انصاف کا مطالبہ کرتے تھے مگر حکومت نے انہیں انصاف نہ دیا۔وہ دیکھتی رہی اور ان کے دلوں پر خنجر مارے گئے ، وہ دیکھتی رہی اور ان کے سروں پر آرے چلائے گئے اور حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا اور صرف اس وجہ سے خاموش رہی کہ اکثریت رکھنے والے لوگ ناراض نہ ہو جائیں۔صرف یہ چیزیں باقی رہی جائیں گی اور اس بات سے خود انگریز حکام ان کے وزراء اور پارلیمنٹ کے ممبر بھی انکار نہیں کر سکتے کہ انگریزی حکومت ہمیشہ نہیں رہے گی۔پس ہم بے شک امن پسند ہیں قانون کا احترام کرتے ہے ہیں ، عدالتوں اور جوں کی عزت قائم کرنے کے ہمیشہ قائل رہے ہیں۔میرے خطبات دیکھ لئے جائیں میں ہمیشہ یہی نصیحت کرتا رہا ہوں اور اب بھی ہمارا یہی مسلک ہے لیکن اس کا کیا علاج ہے کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی ہماری پوری طرح تسلی نہیں کرتا۔اگر ہائیکورٹ میں واقعات زیر بحث ره