خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 201

خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۶ء بجائے اس کے کہ روزہ کا انعام مخلوقات میں سے کسی چیز کے ذریعہ دیا جائے اللہ تعالیٰ کی رضا کے ذریعہ سے اس کی جزاء ملتی ہے۔پس ایسے کام جو خالص مذہبی ہوں اور جن کے نتیجہ میں انسان کی کی ایک ہی غرض ہو یعنی رضائے الہی ان کے حصول اور تکمیل کیلئے بہترین صبر روزہ ہی ہو سکتا ہے کیونکہ روزہ در حقیقت ایک زائد چیز بن جاتا ہے۔اذیت اور تکلیف دینے والے بعض نعمتوں سے محروم کر دیتے ہیں تکلیف اور اذیت کے معنی سوائے اس کے کیا ہیں کہ بعض چیزیں جن کی انسان کو خواہش ہوتی ہے اس سے چھین لی جاتی ہے ہیں مثلاً انسان عزت چاہتا ہے مگر اسے گالیاں دی جاتی ہیں، انسان اپنے بزرگوں کا حترام چاہتا ہے ہے مگر مخالف ان پر جھوٹے الزام لگا کر اور توہین کر کے اس کی راحت چھین لیتا ہے، یا جھوٹے مقدمات بنا کر قید کر دیتا ہے، زمین یا مکان لے لیتا ہے، مار پیٹ کر کے جسم کا سکون اور آرام لے لیتا ہے غرض تکلیف اور اذیت کے یہی معنے ہیں کہ انسان کی کوئی چیز خواہ وہ جسمانی ہو یا روحانی یانی معنوی دوسرا اسے چھین لیتا ہے اور مؤمن کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اس پر بے تابی کا اظہار نہ کرے خواہ اس سے اس کی جان و مال، عزت آبرو ، سکون ، آرام سب کچھ چھین لیا جائے اسے چاہئے کہ خدا پر توکل کر کے وقت گزارے۔اور روزہ کیا ہے انسان خدا کیلئے اپنی مرضی سے کچھ چیزیں چھوڑ دیتا ہے کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، میاں بیوی کے تعلقات ترک کر دیتا ہے، رات کو جاگنے والا نہ بھی ہو تو نیند ترک کرتا ہے، اپنی زبان ، آنکھوں ، کانوں وغیرہ کی زیادہ حفاظت کرتا ہے کیونکہ اخلاق کی پوری نگرانی کے بغیر روزہ مکمل نہیں ہو سکتا۔پس جب انسان کسی مصیبت میں مبتلاء ہوتا ہے یعنی دشمن اور مخالف اس کی بعض پسندیدہ چیزوں کو اس سے چھین لیتے ہیں تو بندہ خدا تعالیٰ کیلئے روزہ رکھتا ہے گویا دوسر۔لفظوں میں وہ اللہ تعالیٰ سے کہتا ہے کہ یہ چیزیں کیا ہیں جو مجھ سے چھینی گئی ہیں میں تو تیری خاطر اپنی خوشی سے اور بھی چیزیں چھوڑنے کو تیار ہوں۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی تجھ سے گر تہ مانگے تو اسے چادر بھی دے دے سے، اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو ی دوسرا بھی آگے کر دے ہے۔ممکن ہے آپ نے یہی مضمون بیان فرمایا ہو جو میں بیان کر رہا ہوں اور عیسائیوں نے اسے غلط سمجھا ہو۔روزہ رکھنا گویا یہ کہنا ہے کہ خدایا ! تیرے عشق میں کونسی چیز ہے جو