خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 202

خطبات محمود ۲۰۲ سال ۱۹۳۶ء میں چھوڑ نہیں سکتا اگر تیری مشیت مجھ سے ایک چیز چھڑاتی ہے تو میں خوشی سے دوسری بھی چھوڑ دیتا ہے ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ دشمن سے کہتا ہے کہ اس کا گر نہ چھین لے تو وہ کہتا ہے کہ خدایا! میں تیری خاطر چادر بھی پیش کرتا ہوں، اگر اللہ تعالیٰ دشمن کو اس پر مسلط کرتا ہے کہ گالیاں دے کر اسے کانوں کا عذاب دے تو وہ کہتا ہے میں زبان اور پیٹ کا عذاب بھی اپنے اوپر لیتا ہوں یعنی بھوکا رہوں گا اور اس طرح جو تکالیف اسے جبری پہنچتی ہیں وہ بھی اس کی ان طوعی اور رضائی تکالیف کی وجہ سے طوعی ہی بن جاتی ہیں اور اس کیلئے ثواب کا موجب ہو جاتی ہیں۔عام لوگ جانتے ہیں اور یہ صرف لطیفہ کی ہی نہیں بلکہ تجارب سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ لیٹ یا بیٹھ جانے والے انسان پر شیر حملہ نہیں کرتا اور شیر تو کجا کتے کے سامنے بھی اگر کوئی شخص بیٹھ جائے تو وہ اسے نہیں کا ٹتا اور کون عقلمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میں شیر جتنی مروت بھی نہیں۔اس لئے جب دشمن حملہ آور ہو اور ہم بجائے جزع فزع کرنے کے خدا تعالیٰ کے حضور بیٹھ جائیں اور کہیں کہ ہم تو باقی چیز میں بھی تیرے حوالے کرنے کیلئے تیار ہیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ اس غضب کو روک نہ دے۔شریف فطرت انسان بھی اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ جو اس کے سامنے لیٹ جائے اس پر حملہ کرے کجا یہ کہ ی شریف فطرت کو پیدا کرنے والا ایسا کر سکے۔بچپن کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ ہم نے ایک کشتی خریدی تھی جو ڈھاب میں پڑی رہتی تھی بعض دفعہ بعض لوگ بغیر اجازت اسے لے جاتے اور اس سے ایسا سلوک کرتے جس سے کہ وہ جلدی خراب ہونے لگی۔اس میں پانی کثرت سے آنے لگا۔کبھی اسے الٹا دیتے، کبھی ڈبو دیتے۔میں نے بعض ساتھ کھیلنے والے لڑکوں سے کہا کہ تم تاڑ رکھو اور جب کوئی اسے لے جائے تو مجھے بتاؤ۔چند روز کے بعد گاؤں کے بعض لڑکے اسے لے گئے اور خراب کرنا شروع کر دیا ، ایک لڑکے نے مجھے آکر اطلاع دی میں جلدی سے گیا اور دیکھا کہ بعض لڑکے اسے منجدھار میں لے جا کر پانی اُچھال رہے ہیں۔میں نے انہیں آواز دی کہ کشتی ادھر لے آؤ۔ان میں سے کچھ تو تیر کر بھاگ گئے اور کچھ کشتی کو لے آئے مگر وہ کنارے پر اُتر کر وہ بھی بھاگنے لگے۔میں نے ان میں سے ایک کی قصاب لڑکے کو پکڑ لیا اور مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا لیکن جب تھپڑ مارنے کیلئے ہاتھ کو نیچے لا رہا تھا تو اُس نے جھٹ اپنا جسم ڈھیلا کر کے کلہ میری طرف کر دیا اور کہنے لگا لوجی مارلو۔اُس کا یہ کہنا تھا کہ