خطبات محمود (جلد 17) — Page 191
خطبات محمود 191 سال ۱۹۳۶ء کوئی جماعت پنجاب میں ایسی ہے چاہے وہ حکومت کے سیکرٹری ہوں، چاہے ماتحت ارکان ہوں جواندر ہی اندر لوگوں کے قلوب پر ہماری جماعت کے خلاف اثر ڈال رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت کی ملازمتوں کے دروازے احمدیوں پر بند ہو جائیں۔میں آج صاف طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم حکومت کی نوکریوں کے محتاج نہیں مگر حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ کھلے طور پر اعلان کر دے کہ آئندہ احمدیوں کو سرکاری ملازمتوں میں نہیں لیا جائے گا۔کچھ افسر کچھ کہتے رہیں اور کچھ افسر کچھ کرتے رہیں یہ بے اصولی بات ہے۔میں تو ی آگے ہی اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا رہتا ہوں کہ چھوڑ و اِن نوکریوں کو اور جاؤ دنیا میں خدا تعالی کی نوکری کرو، تجارت کرو، زراعت کرو، صنعت و حرفت میں ترقی کرو اور اس طرح جہاں کی اپنی روزی کماؤ وہاں خدا تعالیٰ کا نام بھی دنیا میں پھیلاؤ۔اگر گورنمنٹ اعلان کر دے تو جیسا کہ کہتے ہی ہیں دہلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا میں ذاتی طور پر اس ظلم کو بھی جماعت کیلئے ایک مبارک فال ہی کی سمجھوں گا۔میں تو پہلے ہی لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ وہ غیر ملکوں میں نکل جائیں۔بھوکے رہیں ، پیاسے رہیں ، ننگے رہیں آخر اللہ تعالیٰ ان کی ترقی کے راستے کھول دے گا اور قومی کریکٹر بھی مضبوط ہو گا مگر گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ کھل کر ایک دفعہ ہم سے کہہ دے کہ تم آئندہ باغی سمجھے جاؤ گے۔تا اگر پھر جنگ شروع ہو تو کوئی افسر یہ نہ کہنا شروع کر دے کہ لا ؤ اپنے احمدیوں کو ملک کی خدمت کی کیلئے پیش کرو۔مصیبت کے وقت اگر گورنمنٹ نے ہمیں بلا نا ہے تو اب آرام میں بھی ہمارے حقوق ہمیں دے اور اگر مصیبت کے وقت اس نے ہمیں نہیں بلا نا تو پھر بے شک ہم اب بھی اپنے کی حقوق کا اس سے مطالبہ نہیں کرتے۔جوں جوں ہماری جماعت بڑھتی اور ترقی کرتی چلی جائے گی حکومت نئے افراد کو غیر فوجی قرار دیتی جائے یا کہتی جائے کہ تمام سرکاری ملازمتیں انہیں نہیں ملے سکتیں۔ہم سے پہلوں نے تو اس سے بہت زیادہ قربانیاں کی ہیں پھر ہمارے لئے اس میں گھبراہٹ کی کونسی بات ہوسکتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے پاس ایک دفعہ صحابہ نے شکایت کی کہ يَارَسُولَ اللهِ ! ہم پر کفار کی طرف سے پیہم مظالم ہونے لگ گئے ہیں آپ ان کیلئے بددعا کریں۔رسول کریم ﷺ نے جواب دیا کہ تم سے پہلے لوگوں کو اس سے بہت زیادہ تکلیفیں پہنچی ، وہ سر سے لے کر پیر تک آروں سے چیر