خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 181

خطبات محمود ۱۸۱ سال ۱۹۳۶ء حکام میں سے کسی نے یہ خیال کیا کہ لوکل حکام تو ڈھیلے ہو گئے ہیں میں ہی کوئی تماشہ کروں۔بہر حال اس میں کوئی راز ہے جو ہماری سخت دل شکنی کا باعث ہے اور یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ حکومت سے قریب کے زمانہ میں ہمیں کسی اچھی تبدیلی کی امید نہیں ہوسکتی۔مجھے یہ شبہ کہ اس معاملہ میں حکومت کے بعض افسروں کا دخل ہے اس لئے بھی ہے کہ ان دو احراریوں کے یہاں آنے سے تین دن پہلے احرار کے دفتر سے مجھے رپورٹ ملی کہ ایک شخص جس کا می نام زید رکھ لو دوسرے شخص کے پاس جس کا نام بکر رکھ لو گیا اور اسے کہا کہ آپ فلاں شخص کو خط لکھی دیجئے کہ فلاں دن دو آدمی یہاں ضرور بھیج دے اور فلاں شخص سے بھی میں مل چکا ہوں اور وہ فلاں کی شخص حکومت کا ایک افسر تھا۔اس کے تیسرے دن دو احراری آجاتے ہیں اور ریتی چھلہ کے کی دروازوں میں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو اشاروں کی میں بات ہوئی تھی وہ اسی واقعہ کے متعلق تھی اور چونکہ اس رپورٹ میں ایک افسر کا نام بھی آتا تھا تی اس لئے ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ کسی افسر کی اس میں انگیخت ہے۔ہم یہ بات بالا افسروں کے کی پاس ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ یہ بات اشاروں میں ہوئی تھی ، نہ ہم اپنے انفارمر کا پتہ دے سکتے ہی ہیں، نہ خبر رسانی کے طریق کی اسے اطلاع دے سکتے ہیں کیونکہ ممکن ہے وہ اسے جھوٹ کہہ دیں گوی وقوعہ کی پہلے سے خبر دے دینا جھوٹ نہیں بلکہ علم غیب ثابت کرتا ہے۔اس سے کچھ عرصہ پہلے ایک اور واقعہ ہوا جو ہمارے لئے حیرت کا موجب ہوگا اور وہ یہ کہ ی ولایت سے ایک سیاح ہندوستان میں آیا۔اس کے بعض احمد یوں سے گہرے تعلقات تھے چنانچہ اسی بناء پر لاہور سے روانگی کے بعد وہ بعض احمدیوں کے ہاں بطور مہمان ٹھہر امگر ہمیں معلوم ہوا ہے کہ لا ہور میں حکومتِ پنجاب کے بعض افسروں نے ہماری جماعت کے خلاف اس کے کان بھرے اور اسی وجہ سے اگر چہ وہ قادیان آنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر بغیر قادیان آئے واپس چلا گیا۔لاہور سے روانگی کے بعد اور بعض احمدیوں کا مہمان ٹھہرنے کے بعد وہ اپنے فعل پر پچھتایا اور اُس نے کی ایک خط میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا اور لکھا کہ روز بروز میرا افسوس بڑھ رہا ہے کہ میں نے اس کی بارہ میں غلطی کی ہے۔اس واقعہ سے پتہ لگتا ہے کہ حکومت پنجاب کے افسروں کے کم سے کم ایک حصہ کے قلوب میں احمدیوں کے متعلق جو منافرت تھی وہ ابھی دُور نہیں ہوئی۔