خطبات محمود (جلد 17) — Page 180
خطبات محمود ۱۸۰ سال ۱۹۳۶ء قریب کے فیصلے موجود ہیں بلکہ موجودہ چیف جسٹس جو نہایت ہی سمجھدار انسان ہیں جنہوں برطانوی انصاف کی دھاک بٹھا دی ہے اور جن کے مخالف بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ایک کی دیانتدار انسان ہیں اور انصاف کی خواہش رکھتے ہیں انہوں نے کئی فیصلوں میں لکھا ہے کہ جب کوئی اپنی مقبوضہ یا مملوکہ چیز کی حفاظت کر رہا ہو تو اس حفاظت میں اگر وہ حملہ آور کا شدید مقابلہ بھی کرے تو وہ مجرم نہیں۔ایک اور حج نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اگر ایک شخص کسی دوسرے کا حق چھینے کیلئے اس سے لڑے اور دوسرا ما ر ہی کھاتا رہے اس کا سختی سے مقابلہ نہ کرے تو خود حفاظتی کاتی قانون گورنمنٹ نے کیوں بنایا ہے؟ پس ہمارے آدمی اپنے ایک حق کی حفاظت کر رہے تھے اور احراری بے جا طور پر اس حق کو چھینا چاہتے تھے مگر پولیس نے نہ صرف احراریوں کو گرفتار کیا بلکہ ان حفاظت کرنے اور پہرہ دینے والوں کو بھی گرفتار کر لیا۔کوئی شخص سوال کر سکتا ہے کہ آپ بے شک اس زمین پر اپنا حق جتاتے ہیں لیکن گورنمنٹ تو اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ وہ آپ کا حق ہے۔میں کہتا ہوں کہ ہمارا اعتراض حق کی بناء پر نہیں اس کا فیصلہ تو عدالت میں ہوگا۔ہمارا اعتراض تو یہ ہے کہ جب ہمارے خلاف مقدمہ کھڑا کیا گیا ہے تو اس امر کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اس زمین پر اس وقت ہمارا قبضہ ہے ورنہ اگر ہمارا قبضہ تسلیم نہیں تو ی ہمارے خلاف مقدمہ کرنے کی وجہ کیا ہے۔پس جب ہما را قبضہ تسلیم کر لیا گیا ہے تو جب تک عدالت ہمارے قبضہ کو نہ تڑوائے سرکاری محکموں کو ہمارے ساتھ وہی سلوک کرنا ہوگا جو ایک جائز قابض کے ساتھ کیا جاتا ہے اور عدالت کے فیصلہ تک پولیس اور حکومت کا فرض تھا کہ اس احاطہ میں داخل کی ہونے والوں کے خلاف کا رروائی کرتی اور ہمارے آدمیوں کی مدد کرتی۔ہاں اگر عدالت فیصلہ کی کر دیتی کہ یہ احمدیوں کا حق نہیں تو اس کے بعد اس کا فرض تھا کہ ہمارے مخالفوں کی حفاظت کرتی۔مگر جب تک عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا اور معاملہ عدالت میں زیر غور تھا اُس وقت تک حکومت خود مقدمہ چلا کر یہ تسلیم کر چکی تھی کہ اس زمین پر احمدیوں کا قبضہ ہے اور جس قبضہ کو حکومت تسلیم کر چکی تھی اس قبضہ کی حفاظت کرنے والوں کو پکڑنا ایک ایسی بات ہے جس کے سمجھنے سے ہم قاصر ہیں اور نہ کوئی اور اسے سمجھ سکتا ہے۔یہ تبدیلی حکومت کے رویہ میں کیوں ہوئی ؟ چاہے لوکل حکام کی وجہ سے ہوئی یا اوپر کے