خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 165

خطبات محمود ۱۶۵ سال ۱۹۳۶ء جب ۱۹۱۴ ء میں لڑائی شروع تھی اور سوچیں کہ ۱۹۱۴ء میں ان کے قلب کی کیا کیفیت تھی اور کس طرح کی وہ وفاداری کے بھو کے نظر آتے تھے۔اُس دن کس طرح حقیر سے حقیر انسان بھی جو ان کی مدد کیلئے جی ہاتھ بڑھاتا تھا اُسے ادب اور احترام کے مقام پر بٹھانے کیلئے تیار ہو جاتے تھے۔۱۹۱۴ء کا انگریز کس طرح اپنے ملک کی عزت کو خطرے میں گھرا ہوا پاتا تھا اُس دن کی بیشک کہنے کو اخبارات میں یہ اعلان ہوتے رہتے تھے کہ ہم بالکل محفوظ ہیں اور ہماری طاقت دشمن کی طاقت سے بہت زیادہ ہے لیکن انگلستان کے بڑے بڑے جرنیلوں نے تو اب کتابیں لکھی کر اصل حالات کو طشت از بام کر دیا ہے اور ان میں اُن تمام واقعات کا ذکر ہے جن سے ثابت کی ہوتا ہے کہ وہ چار سال انگلستان والوں کیلئے عذاب کے سال تھے۔کئی مواقع ایسے آئے جب انگلستان یہ محسوس کرتا تھا کہ آج وہ اپنی آزادی کو کھو دینے کیلئے بالکل تیار بیٹھا ہے۔انگلستان کے جی لیڈر یہ محسوس کرتے تھے کہ قوم کی عزت اس وقت اتنے خطرے میں ہے کہ بالکل ممکن ہے کہ وہ اسے ہمیشہ کیلئے کھو بیٹھیں۔یہ خطرناک دن آئے اور اُن دنوں میں چھوٹی سے چھوٹی امداد کے بھی وہ ای محتاج ہوئے۔اُن دنوں پر غور کر کے اور ان واقعات کی یاد تازہ کر کے حکومت کے افسر سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری جماعت نے کس جرات ، کس دلیری ، کس بہادری اور کس مردانگی کے ساتھ مخالف حالات میں حکومت انگریزی کی مدد کی لیکن کیا ہم نے اس کا کوئی بھی بدلہ لیا ؟ ہم نے اس کا ایک شمہ بھر بھی بدلہ نہیں لیا اور نہ لینا چاہتے ہیں۔مگر کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کہیں کہ ہمیں وہ برطانوی انصاف دیا جائے جس پر برطانوی انصاف کی امید میں ہماری جماعت نے جانیں دیں۔پھر جنگ میں جب فتح ہوئی تو کوئی سر بنا کوئی نواب بنا، کسی کو مربعے ملے، کسی کو نوکریاں ملیں اور کسی نے کی کسی طرح کا اعزاز حاصل کیا اور کسی نے کسی طرح کا۔مگر کیا ہم نے بھی کوئی بحیثیت جماعت کی گورنمنٹ سے کوئی مطالبہ کیا ؟ یا کیا ہمیں بھی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی معاوضہ دیا گیا ؟ اس میں شبہ نہیں کہ بعض افراد سے حکومت نے اچھا سلوک کیا مگر ہماری خدمات دو طرح کی تھیں۔ایک وہی خدمات جو مِن حيث الأفراد تھیں اور ایک وہ خدمات تھیں جو مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَت تھیں۔جو ان خدمات مِنْ حَيْثُ الأفراد تھیں ان میں بے شک بعض احمدیوں کو گورنمنٹ نے اعزاز دیا اُسی طرح جس طرح کہ اس نے اور لوگوں کو اعزاز دیا لیکن ہزاروں احمدی ایسے تھے جنہوں نے مرکز