خطبات محمود (جلد 17) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۶ء میں ریت اور مٹی ہوتی ہے دانت کے نیچے آٹے کو ذرا چبا کر دیکھو فوراً اس میں سے کر کر کی آواز کی آنے لگے گی۔عام طور پر لوگ ہمارے ملک میں اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے حالانکہ اگر وہ صرف لقمہ کو چبا چبا کر کھانے کی عادت رکھتے تو انہیں معلوم ہو جا تا کہ وہ آٹا نہیں کھا رہے بلکہ گند کھا رہے ہیں۔نوے فیصدی آٹا ایسا ہوتا ہے جس میں کرک ہوتی ہے ذرا اسے دانتوں کے نیچے دباؤ کر رکر کی آواز آنے لگ جائے گی اور یہ صحت کیلئے نہایت ہی مضر ہوتا ہے۔علاوہ اس کے یہ دھوکا بازی کی بھی ہے کہ دُکاندار قیمت خالص آٹا کی وصول کرتے ہیں اور آٹا وہ دیتے ہیں جس میں ریت اور مٹی ملی ہوئی ہوتی ہے۔بد دیانتی صرف اس کا نام نہیں کہ تم کسی کا ناحق روپیہ لے لیتے ہو بلکہ بددیانتی اس کا بھی نام ہے کہ تم کسی کی کوڑی اُٹھا لیتے ہو۔اسی طرح بد دیانتی صرف اسی کا نام نہیں کہ تم ۹۵ فیصدی آٹا اور ۵ فیصدی مٹی ملا کر دو بلکہ اگر تم اٹھانویں فیصدی آٹا اور دو فیصدی مٹی وی ملاتے ہو یا ننانویں فیصدی آٹا اور ایک فیصدی مٹی ملاتے ہو، یا ساڑھے ننانوے فیصدی آٹا اور نصف فیصدی مٹی ملاتے ہو بلکہ اگر تم ۹۹۹ حصے آٹا اور ہزارواں حصہ مٹی ملاتے ہو تو وہ بھی ویسی ہی بد دیانتی اور گندی عادت ہے جیسے ۵ فیصدی مٹی ملانا۔نیکی اور بدی دل سے تعلق رکھتی ہے جس طرح اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کی راہ میں اخلاص سے ایک پیسہ دیتا اور وہ یہ امید رکھتا ہے کہ یہ ایک پیسہ امیر آدمی کے ایک لاکھ روپیہ سے کم نہ سمجھا جائے اور وہ اخلاص سے ایک پیسہ دے کر سمجھتا ہے کہ اُس نے لاکھ روپیہ دینے والے جیسی قربانی کی اور اسی طرح اگر کوئی شخص پانچ فیصدی ٹھگی کرتا ہے تو وہ بھی ٹھگ ہے اور جو ہزارواں حصہ کی ٹھگی کرتا ہے وہ بھی ویسا ہی ٹھگ ہے۔جس طرح نیکی کی جزاء نیت پر ہے اسی طرح بدی کی سزا بھی نیت پر ہے۔جس طرح خدا تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی راہ میں ایک غریب شخص نے اخلاص سے ایک پیسہ دیا اور دوسرے امیر نے ایک لاکھ روپیہ دیا بلکہ وہ اخلاص دیکھتا اور اس کے مطابق جزاء دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ ایک نے پانچ فیصدی ٹھگی کی اور دوسرے نے آدھ فیصدی بلکہ وہ کہے گا کہ دونوں نے ٹھگی کی۔پانچ فیصدی ٹھگی کرنے والے نے بھی ٹھگی کی اور ہزارواں حصہ ٹھگی کرنے والے نے بھی ٹھگی کی۔تقدس اور نجاست کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور جس طرح زیادہ نیکی بھی نیکی اور تھوڑی نیکی بھی نیکی سمجھی جاتی ہے اسی طرح زیادہ بدی بھی بدی اور تھوڑی بدی بھی بدی سمجھی جاتی ہے۔ممکن ہے یہاں کے