خطبات محمود (جلد 17) — Page 119
خطبات محمود صلى الله 119 سال ۱۹۳۶ء پرواہ نہیں دروازہ کھول دیا جائے اگر اس نے شرارت کی تو ہم بہادری میں اس سے کم نہیں۔رسول کی صلى الله کریم ﷺ نے فرمایا دروازہ کھول دو۔چنانچہ دروازہ کھولا گیا اور حضرت عمر اندر آئے۔آنحضرت نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا عمر! کب تک شرارتوں میں بڑھتے جاؤ گے؟ حضرت عمر نے گردن کی جھکا دی اور عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! میں تو آپ کا غلام بننے کیلئے آیا ہوں۔ان کا یہ کہنا تھا کہ صحابہ نے خوشی سے بیتاب ہو کر اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ مکہ کے درودیوار گونج اُٹھے شے۔اور یہ پہلا نعرہ تھا جو مسلمانوں نے بلند کیا۔یورپین مصنف کہتے ہیں کہ اسلام کی ترقی کا مدار عمر کی ذات پر تھا بے شک حضرت عمر کی تلوار نے مشرق و مغرب اور ایشیا و افریقہ میں اسلام کیلئے فتوحات کیں مگر اُن کو کس تلوار نے فتح کی کیا؟ یہ تلوار وہی صداقت اور راستی کی تلوار تھی جس کے مقابلہ میں اور کوئی تلوار نہیں ٹھہر سکتی۔پس تی تلوار اور دوسرے ہتھیار آپ لوگوں کی شان کے منافی ہیں۔انبیاء کی جماعتیں ابتدا میں قربانی کیا کرتی ہیں خود حملہ کبھی نہیں کرتیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ مسلمان لڑائی کو موت سمجھتے تھے۔پس مؤمن امن پسند ہوتا ہے اسے لوہے کے ہتھیار نہیں بھاتے بلکہ اس کی محبوب تلوار صداقت کی تلوار ہوتی ہے۔اس لئے میں جماعت کو بالعموم اور نو جوانوں کو بالخصوص یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ صداقت پر قائم ہوں یہ وہ تلوار ہے جو ایمان سے ملتی ہے۔لوہے کی تلواریں روپے سے مل سکتی ہیں لیکن صداقت کی تلوار کے لئے ایمان کی ضرورت ہے جو صرف تمہارے ہی پاس ہے۔یہ وہ دھات ہے جو حکومتوں کے خزانوں میں نہیں صرف تم ہی ہو جو یہ تلوار بنا سکتے ہو اور چلا سکتے ہو اس لئے اقرار کرو کہ تم میں سے ہر ایک امین اور راستباز بنے گا پھر تمہارے دشمن بھی تمہارے آگے ہاتھ جوڑیں گے اور دنیا میں جسے کسی کام کیلئے دیانتدار آدمی کی ضرورت ہوگی وہ تمہاری تلاش کرے گا۔صداقت اور دیانت کوئی معمولی نعمت نہیں بلکہ تمام نعمتوں کی جان ہے اور اگر ہمارے نوجوان اقرار کر لیں کہ وہ امین اور راستباز بنیں گے تو وہ بغیر ہتھیاروں کے دنیا کو فتح کر سکتے ہیں۔راستبازی قولی اور ذہنی سچائی ہے اور امین بننا عملی سچائی کو چاہتا ہے۔اگر ہمارے نوجوان یہ دونوں چیزیں اپنے اندر پیدا کر لیں تو یہ سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ انہیں کام نہیں ملتا۔تمہیں چاہئے کہ ثابت کر دو کہ احمدی راستباز اور امین ہوتے ہیں پھر شدید