خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 120

خطبات محمود ۱۲۰ سال ۱۹۳۶ء سے شدید دشمن بھی تمہیں تلاش کر کے کام دے گا۔ہمارے سلسلہ کا ایک شدید مخالف دشمن اور احرار کا لیڈر ہے مگر وہ اپنے خانگی معاملات کیلئے ایک احمدی پر اعتماد کرتا ہے وہ پبلک میں آکر تو یہ کہتا ہے کہ کسی احمدی کا منہ تک نہ دیکھو مگر خود ایک احمدی کے سوا کسی پر اعتماد نہیں کرتا۔پس جہاں بھی احمدیوں نے اپنے معیار کو قائم رکھا ہے دشمنوں نے بھی ان کی دیانت اور قابلیت کو تسلیم کیا ہے۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے مجھے ایک رپورٹ پہنچی کہ ایک احمدی افسر کے متعلق بعض لوگوں نے بہت شور مچایا مگر جب بالا افسروں نے تحقیقات کی تو مخالفوں کے ایک حصہ نے ہی گواہیاں دیں کہ گزشتہ سالہا سال سے ایسا دیانتدار کوئی افسر ہمارے علاقہ میں آیا ہی نہیں۔پہلے جو بھی آتا تھا رشوت لیتا تھا صرف یہی ایک ہے جو انصاف سے کام لیتا ہے اور افسران بالا کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ وہ بہت دیانتدار آدمی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دوست فوج میں ملازم تھے بعض فوجی کبھی جوش میں آکر لوٹ مار بھی کر لیتے ہیں اور بعض افسر فوج کی نیک نامی کے قیام کیلئے اس پر پردہ کی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ جس کمپنی میں تھے اُس کا بھی اُس وقت یہی حال تھا لیکن وہ احمدی کی سچا اور مخلص احمدی تھا وہ ہمیشہ سچی بات کہہ دیتا اور اس وجہ سے ہندوستانی افسر ہمیشہ اُس سے ناراض رہتے اور وہ اکثر کوارٹر گارڈ میں ہی رہتا۔ایک دفعہ ان کی فوج کو ئٹہ کی طرف گئی اور وہاں کی بعض فوجیوں کا ایک چھابڑی والے سے جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے غصہ میں آکر اُس کی چیزیں چھین لیں اور اُسے مارا بھی۔پولیس نے اس معاملہ کی تحقیقات شروع کی تو چند ہندوستانی افسر اس کی میں رکاوٹیں ڈالنے لگے۔عدالت میں مقدمہ پیش ہوا مجسٹریٹ کوئی دیانتدار انگریز تھا جو چاہتا تھا کہ که صداقت کھلے۔دُکانداروں نے اسے بتایا کہ فوجیوں کے ساتھ ایک شخص ایسا بھی تھا کہ جو ان کو اس کام سے منع کرتا تھا۔مجسٹریٹ نے فوجی افسروں کو لکھا کہ وہ شخص کہاں ہے اسے پیش کیا ہے جائے۔جواب میں لکھا گیا کہ وہ سزا یاب ہے اور کوارٹر گارڈ میں ہے۔مجسٹریٹ نے لکھا کہ اسے گواہی کیلئے بھیج دو۔چنانچہ وہ پیش کیا گیا تو مجسٹریٹ نے اُسے پوچھا کہ تم سزا یاب کیوں تھے؟ اُس نے صاف کہہ دیا کہ اسی لئے کہ گواہی نہ دے سکوں اور پھر صاف بات بتادی۔مجسٹریٹ نے اس کے افسروں کو لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کی آپ کے ہاں کھپت نہیں اسے ڈسچارج