خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 99

خطبات محمود ۹۹ سال ۱۹۳۶ء لیکن نیک خیال کے ماتحت عمل کا پیدا ہو جانا ضروری نہیں ہوتا۔پس نیک ارادہ اور نیک خیال میں یہی فرق ہے کہ نیک بات کے متعلق خیال پیدا ہو کر بھی عمل کی حالت ابھی بہت دور ہوتی ہے لیکن نیکی کے ارادہ کے بعد ساتھ ہی عمل بھی شروع ہو جاتا ہے۔جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک نے صرف خیالات تک اپنے آپ کو محدود رکھا اور دوسرے نے عمل بھی شروع کر دیا۔مگر بہر حال یہ سوال پھر بھی رہ جاتا ہے کہ وہ کمزور اور بے کس جنہیں خدا تعالیٰ نے اپنی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق دی مگر سامانوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ کوئی خدمت دین کا کام نہیں کر سکتے ان کیلئے کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے ان کی عملی قوت برقرار رہے اور وہ بھی کہہ سکیں کہ ہم نے بھی خدا تعالیٰ کے دین کی لئے جو طاقتیں ہمیں میسر تھیں لگا دیں۔وہ عمل جیسا کہ میں نے گزشتہ سال بتایا تھا دعا ہے۔دعا ان اعمال میں سے ہے جس کیلئے کسی مال کی ضرورت نہیں ،کسی علم کی ضرورت نہیں ، کسی فن کی ضرورت نہیں ، کسی طاقت وقوت کی ضرورت نہیں ، اگر کسی کے ہاتھ نہیں کہ وہ ہاتھ اُٹھا کر دعا کر سکے، اگر کسی کی کمر میں ہلنے جلنے کی طاقت نہیں کہ وہ چار پائی سے اُٹھ کر نماز کی حرکات ادا کر سکے تب بھی وہ دعا کر سکتا ہے کیونکہ دُعا ان چیزوں کی محتاج نہیں بلکہ اگر اس کی پیٹھ کر گئی ہے تو وہ لیٹار ہے اور دعا کرے۔اگر اس کی زبان پر فالج گرا ہوا ہے اور وہ دعا کیلئے اپنی زبان نہیں ہلا سکتا تو دماغ میں دعائیہ فقرات کو دُہرائے۔اور اگر اس کا دماغ بھی جاتا رہے تو پھر وہ انسانیت سے نکل گیا۔ایسا انسان زندوں کی بجائے وفات یافتہ لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے اور اُس کا زمانہ عمل ختم ہو جاتا ہے۔لیکن جب تک ایک انسان دنیا میں رہتا ہے اور انسانیت کی حدود سے اِدھر اُدھر نہیں ہوتا اُس وقت تک معذور سے معذور انسان بھی عمل کر سکتا ہے اور وہ دعا کا عمل ہے۔اسے خدا تعالیٰ نے باقی اعمال سے کم حیثیت نہیں دی بلکہ یقیناً زیادہ حیثیت دی ہے۔سارے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر تم جہاد کرو گے تو میں تمہارے پاس ضرور آ جاؤں گا، سارے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر تم نماز پڑھو گے تو میں تمہارے پاس ضرور آ جاؤں گا ، سارے قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر تم روزہ رکھو گے تو میں ضرور تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔غرض کسی عمل کے متعلق قرآن کریم میں یہ نہیں لکھا کہ اس کے نتیجہ میں ضرور خدا تعالیٰ کا قرب انسان کو حاصل ہو جاتا ہے مگر ایک عمل ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ