خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 98

خطبات محمود ۹۸ سال ۱۹۳۶ء الله ارادہ بسا اوقات جدا ہوتا ہے اور خیال بغیر ارادہ کے علم کی ایک کیفیت ہے اور ارادہ علم اور عمل دونوں کا جامع ہے۔گویا وہ مقام جس میں علم اور عمل باہم ملتے ہیں اور جب انسان یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں نے فلاں کام کرنا ہے اور اپنا قلب اور اس کا تمام ماحول اس کیلئے لگا دیتا ہے اس کو ارادہ کہتے ہیں اور اس طرح ارادہ ، اعمال کا خالق ہوتا ہے مگر محض خیال عمل کا خالق نہیں ہوتا۔یہی چیز ہے کہ جب مذہبی امور کے متعلق ہو تو اسے ایمان کہتے ہیں ایمان خیال کا نام نہیں۔ہزاروں ہندو ہیں جو رسول کریم ﷺ کو سچا سمجھتے ہیں ، ہزاروں عیسائی ہیں جو رسول کریم ﷺ کو سچا سمجھتے ہیں ، ہزاروں سکھ ہیں جو رسول کریم ﷺ کوسا سمجھتے ہیں مگرتم نہیں کہتے کہ وہ رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ صداقت کا محسوس کر لینا علم ہے ایمان نہیں۔ایمان اُس حالت کو کہتے ہیں جب انسان اس کے تابع ہو اور وہ اپنے نفس کو گلی اسی طرف لگا دے اور زندگی کو اس ایمان کے طریق پر ڈھال لے۔پس خالی صداقت کا قائل ہونا ایمان نہیں بلکہ یقین کے اس مرتبہ کو پہنچ جانا کہ اعمال آپ ہی آپ اس کے مطابق ڈھلتے جائیں ایمان کہلاتا ہے۔بے شک کمزور حالت میں ایمان مخفی بھی ہو سکتا ہے مگر اس مخفی ایمان کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ عمل مخفی کرتا ہے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ عمل کرتا ہی نہیں۔مثلاً قرآن مجید میں آل فرعون میں سے ایک شخص کے متعلق آتا ہے کہ يَكْتُمُ اِيْمَانَهُ ه وه اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔اس کے صرف یہ معنی نہیں کہ وہ دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سچا سمجھتا تھا بلکہ یہ ہیں کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکا تھا صرف اعمال اس کے ظاہر نہ تھے لیکن ایمان در اصل عمل کے بغیر ہوتا ہی نہیں۔لیکن اس ایمان سے حقیقی ایمان مراد ہے رسمی ایمان مراد نہیں۔ایک ایمان نام کا ہوتا ہے جیسے قرآن مجید میں آتا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ مؤمن نہیں ہوتے 1۔لیکن چونکہ ظاہری طور پر وہ ایمان کا دعوی کرتے ہیں ، قرآن مجید پر ایمان رکھنے کا ادعا کرتے ہیں اس لئے ظاہری شکل کی وجہ سے ہم اسے ایمان کہہ دیتے ہیں حقیقت کی رو سے نہیں۔جیسے مٹی کے بنے ہوئے آم ، یا مٹی کے بنے ہوئے سنگترے کو بھی ہم آم اور سنگترہ ہی کہتے ہیں اگر چہ ان میں آم اور سنگترہ کی حقیقت نہیں ہوتی۔پس چونکہ انسان کے نیک ارادے اور نیک خیال میں امتیاز مشکل ہوتا ہے اس لئے وہ امتیاز عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے۔نیک ارادہ کے ماتحت انسان سے آپ ہی آپ اس کے مطابق عمل بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے 09