خطبات محمود (جلد 17) — Page 95
خطبات محمود ۹۵ سال ۱۹۳۶ء اور نحیف جو چار پائی سے اُٹھنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، وہ سب اُس وقت تک کہ وہ انسان کہلاتے ہیں اور انسان رہتے ہیں ویسی ہی دین کی خدمت کر سکتے ہیں جیسے وہ تندرست جو جہاد میں شامل ہوتے ہیں اور جیسے وہ مجاہد جو دین کی خدمت کیلئے اپنے ملکوں سے باہر جاتے ہیں۔وہ کیا چیز ہے؟ وہ یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ ارادہ نیک اور دعائے اضطرار اعمال حسنہ میں سے ایک بہت بڑا عمل ہے۔لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہاتھ پاؤں کا ہلانا ہی عمل ہے مگر قرآن مجید نے دنیا کے سامنے یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ دل کا مستقل ارادہ بھی عمل ہے اور دعا بھی عمل ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ جب ایک جہاد میں تشریف لے گئے جس میں مسلمانوں کو بہت سی دقتیں پیش آئیں تو آپ کو محسوس ہوا کہ بعض صحابہ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ انہوں نے دین کی خدمت دوسروں سے نمایاں طور پر کی ہے اس پر آپ نے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا کچھ لوگ مدینہ میں ایسے رہتے ہیں کہ تم کسی وادی میں سے نہیں گزرتے اور کوئی تکلیف خدا تعالیٰ کے رستہ میں برداشت نہیں کرتے مگر جس طرح تمہیں ثواب ملتا ہے اسی طرح انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب مل رہا ہے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ کیونکر ہم اسلام کی خدمت کیلئے باہر نکلے ہوئے ہیں ، خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو قربان کر کے طرح طرح کی تکلیفیں اُٹھارہے ہیں اور وہ مدینہ میں آرام سے بیٹھے ہیں پھر وہ اسی ثواب کے مستحق کیونکر ہو سکتے ہیں جس کے ہم ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ ٹھیک ہے مگر جن کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ وہ معذور لوگ ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ پاؤں ہوتے تو وہ بھی جہاد کیلئے نکلتے ، اگر ان کے پاس مال ہوتا تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں اسے خرچ کرتے ، اگر ان کے پاس طاقت ہوتی تو وہ بھی اس سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے مگر ان کے پاس کچھ نہیں وہ معذور ہیں اور اپنی معذوری کو دیکھ کر ان کے دل مدینہ میں بیٹھے خون ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کاش! ہمارے پاس مال ہوتا ، کاش! ہمارے پاس طاقت ہوتی تو آج ہم بھی جہاد کرتے۔پس وہ خدا تعالیٰ کے حضور تم سے کچھ کم ثواب کے مستحق نہیں بلکہ ویسے ہی ثواب کے مستحق ہیں جیسے تم ہو اور گوان کے پاس سامان نہیں مگر ان کا ارادہ یہی ہے کہ اگر سامان ہوتا تو ہم اس سے کام لے کر خدا تعالیٰ کی راہ میں