خطبات محمود (جلد 17) — Page 96
خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۶ء نکل کھڑے ہوتے ہے۔پس ان کا ارادہ خود عمل ہے اور وہ بھی ویسے ہی ثواب کا مستحق ہے جیسے اور انسانی اعمال۔حقیقت یہ ہے کہ نیک ارادہ ، نیک عمل سے مشکل ہوتا ہے۔تم نیک عمل منافقت سے کر سکتے ہو مگر تم نیک ارادہ منافقت سے نہیں کر سکتے۔ایک کمزور سے کمزور انسان منافقت کے ساتھ نیک عمل کر سکتا ہے مگر ایک طاقتور سے طاقتور انسان منافقت کے ساتھ نیک ارادہ نہیں کر سکتا۔پس ارادے کی طاقت عمل سے زیادہ ہوتی ہے تم عمل کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہولیکن ارادہ کو اُس وقت تک اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتے جب تک تم اپنے ذہن میں اس ارادہ کے مطابق تبدیلیاں پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو جاؤ۔پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ ہاتھ پاؤں کا عمل زیادہ قیمتی شے ہے اور دل کا عمل بے حقیقت شے ہے۔خصوصاً جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عمل ارادے کے تابع ہے۔جب ارادہ طاقت پکڑ لیتا ہے تو جس میں قوت عمل نہ ہو اس کی سے بھی اپنے منشاء کے مطابق عمل کرالیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ سے یعنی عمل نیتوں کے تابع ہوتے ہیں۔جیسے جیسے نیت بدلتی جاتی ہے اس کے مطابق اعمال کی شکل بھی تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک ہی کام جو ایک کیلئے ترقی اور روحانی بلندی کا موجب ہوتا ہے نیت کے بدل جانے کی وجہ سے دوسرے کیلئے ذلت اور رسوائی کا موجب بن جاتا ہے۔صلى الله چنانچہ دیکھ لو وہ نماز جو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہے، وہ نماز جو الہی محبت میں بیتاب ہوکر جب ادا کی جاتی ہے تو انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے۔وہی نماز ایک دوسرے وقت میں دوسرے انسان کیلئے باوجود یکہ نماز کی وہی شکل رہتی ہے ، عبارتیں وہی پڑھی جاتی ہیں، وقت اتنا ہی خرچ کیا جاتا ہے بلکہ زیادہ کیونکہ اس میں ریاء کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے دُکھ اور عذاب کا موجب بن جاتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ ، کہ ایک نمازی ایسے ہوتے ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا عذاب ہوتا ہے تو نیتوں کی تبدیلی کی وجہ سے انسانی اعمال کی شکل بالکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ایک ڈاکٹر بھی مریض کے جسم میں چاقو مارتا ہے اور ایک قاتل بھی چاقو مارتا ہے مگر ایک کو تم فیس دیتے اور دوسرے کو پھانسی کی سزا دلوانے کی کوشش کرتے ہو۔مارتے دونوں چاقو ہیں مگر ایک کے تم ممنونِ احسان ہوتے ہو اور دوسرے کے دشمن ہو جاتے ہو اس کی کیا