خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 92

خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۳۶ء ہے اگر کسی وقت اس خدمت کا موقع ملے تو اس میں ایسے ہی مرد اور عورتیں حصہ لے سکتی ہیں جنہیں مرہم پٹی کرنا آتا ہو، یا اگر کسی وقت آہن گری کے علم کی ضرورت پڑے تو آہن گر ہی کام آ سکتا ہے، یا نجاری کے متعلق ضرورت محسوس ہو تو مجا ر ہی کام آئے گا دوسرے لوگ نہیں، یا اگر معماری کے سلسلہ میں بعض لوگوں کی خدمت کی ضرورت ہو تو معمار ہی قربانی کر سکتا ہے دوسرے لوگ نہیں کر سکتے۔پس با وجود تمام کوششوں اور نیک ارادوں کے پھر بھی بنی نوع انسان کا ایک حصہ ایسا رہ جاتا ہے جو جانی یا مالی یا فنی خدمات میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوتا اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم جو تمام بنی نوع انسان کیلئے ہے جس میں غریب بھی شریک ہیں اور امیر بھی ، بڑے بھی شریک ہیں اور چھوٹے بھی ، معذور بھی شریک ہیں اور غیر معذور بھی عورتیں بھی شریک ہیں اور مرد بھی، بچے بھی شریک ہیں اور بوڑھے بھی ، اس اسلام کے کسی حکم پر جو لوگ لبیک کہنے سے معذور ہوں وہ کیا کریں؟ جب اسلام مالی تحریک کیلئے بلائے تو غرباء کیا کریں؟ جب جسمانی تائید کیلئے بلائے تو ا پا نچ کیا کریں؟ جب کھلے میدانوں میں کام کرنے کیلئے بلائے تو عورتیں کیا کریں؟ جب طاقت وقوت کا مظاہرہ چاہئے تو اس وقت بچے اور بوڑھے اور بیمار کیا کریں؟ اور جس وقت علم کی استمداد چاہئے اس وقت جاہل اور ان پڑھ کیا کریں؟ غرض کوئی علاج اسلام میں ایسا بھی ہونا چاہئے اور کوئی تدبیر اس قسم کی بھی ہونی چاہئے کہ ہر شخص جو مسلمان کہلاتا ہے چاہے وہ کسی حالت میں پڑا ہوا ہو اپنے رب کی آواز پر لبیک کہہ سکے اور اپنی طاقت وقوت کے مطابق اس میں حصہ لے سکے تا بنی نوع انسان میں سے کوئی انسان ایسا نہ ہو جو یہ کہہ سکے کہ اے خدا! تیری آواز دوسروں کیلئے تو تھی مگر میرے لئے نہیں تھی ، اور تا کوئی ایسا بندہ نہ ہو جسے خدا تعالیٰ کہے کہ ا تو میرے دین کی خدمت نہیں کر سکتا تھا ؟ پس نہ بندے کیلئے موقع ہونا چاہئے کہ وہ حسرت کا اظہار کرے اور کہے کہ میں دین کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہمارا خالق اپنے کسی بندے سے کہے کہ تو میرے دین میں کسی مصرف کا نہ تھا۔ہمارا خدارت العالمین ہے اور رب العالمین کی آواز تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے۔چاہے وہ کمزور ہو یا طاقتور ، جوان ہوں یا ادھیڑ عمر کے، بچے ہوں یا بوڑھے، عالم ہوں یا جاہل ، پھر خواہ وہ فنون سے واقفیت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں، مال رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں اور بنی نوع انسان میں سے ہر شخص کے اندر کوئی نہ کوئی ایسی طاقت کی