خطبات محمود (جلد 17) — Page 93
خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۳۶ء ہونی چاہئے جس سے خدمت دین میں کام لے کر وہ فخر کر سکے اور کہہ سکے کہ میں نے بھی ا۔رت کی آواز کو سنا اور اس کا جواب دیا۔بے شک اللہ تعالیٰ بے انتہا ء رحم کرنے والا ہے اور وہ اپنے رحم سے جس کو چاہے بخش دے کون اُس کے ہاتھ کو روک سکتا ہے۔اگر وہ فیصلہ کر دے کہ نمرود اور شداد اور فرعون کو جنت میں داخل کر دیا جائے تو کون اسے روک سکتا ہے۔یا فیصلہ کر دے کہ عقبہ یا شیبہ اور ابو جہل کو معاف کر دیا جائے تو کون اسے منع کر سکتا ہے۔وہ مالک اور آقا ہے کون ہے جو اس پر اعتراض کرے، کون ہے جو اس کے ہاتھ کو روک سکے۔پس وہ ان بوڑھوں، اپاہجوں، کمزوروں، ناطاقتوں اور جاہلوں کو اپنے فضل سے جنت میں لے جاسکتا ہے جنہیں اس کے دین کی خدمت کرنے کا کوئی موقع نہ ملا ہو۔مگر سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں کیا احساس ہوگا۔بے شک ایک رنگ میں سب ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے نجات پائیں گے۔رسول کریم ﷺ نے بھی اہل بیت میں سے ایک کے سوال پر فر مایا تھا کہ میری نجات بھی اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔یہ سب سچ ہے مگر ایک فضل اعمال کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور ایک بغیر اعمال کے فضل ہوتا ہے۔ایک مؤمن کا جنت میں جانا اور ایک کا فر کا جنت میں جانا دونوں اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہیں مگر ان دونوں میں بہت بڑا فرق بھی ہے۔ایک مؤمن کی گردن فخر سے اونچی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے میں نے اپنے رب کی آواز کو سنا اور اس پر حتی المقدور عمل کرنے کی کوشش کی اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے مجھ پر فضل کیا اور جنت میں داخل کر دیا مگر کافر کی گردن شرم سے نیچی ہوتی ہے وہ کہتا ہے میں نے اپنے رب کی آواز کوسنا اور اس کا انکار کیا مگر پھر بھی ا۔فضل سے مجھے جنت میں داخل کر دیا۔پس گونتیجہ ایک ہے مگر دونوں کے ذرائع میں فرق ہے اور اپنے دونوں کے احساسات اور جذبات میں فرق ہے۔یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم ایک ہی دستر خوان پر اپنے بچے کو بٹھاؤ اور اسی پر ایک فقیر کو بٹھا دو۔بے شک کھانا ایک ہو گا مگر تمہارا بچہ جب کھانا کھا رہا ہوگا تو گو وہ سمجھے گا کہ مجھ پر میرے باپ کا احسان ہے مگر وہ ساتھ ہی کہے گا میرا حق بھی ہے کہ میں کھاؤں لیکن وہی کھانا فقیر کھائے گا اور کہے گا میرا حق تو نہیں صرف اس کی نوازش ہے جس نے مجھے اپنے دستر خوان پر بٹھا لیا۔تو چیز ایک ہے ، نظارہ ایک ہے ، مزہ ایک ہے لیکن احساس اور جذبات مختلف ہیں۔اسی طرح بے شک یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس اپاہج ، اس