خطبات محمود (جلد 17) — Page 744
خطبات محمود ۷۴۴ سال ۱۹۳۶ بعد میں اس سے بدفعلی کا ارتکاب کرنے لگا تو اُس نے کہا اے خدا کے بندے! میں تجھے خدا کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ تو مجھے گناہ میں مبتلاء مت کر۔میں یہ سنتے ہی ہٹ گیا اور میں نے کہا اب تو نے ایک بڑی ذات کا مجھے واسطہ دیا ہے میں اُسی کی رضا کیلئے اس سے باز رہتا ہوں۔اے خدا ! کی اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کیلئے کیا تھا تو اِس کام کے بدلے میں میں تجھ سے درخواست کرتا کی ہوں کہ تو اس پتھر کو ہمارے راستہ سے ہٹا دے۔اس دعا کے نتیجہ میں زور کی آندھی کا ایک طوفان اُٹھا اور وہ پتھر ذرالڑھک گیا لیکن ابھی ان کے نکلنے کا راستہ نہ بنا۔تب دوسرے نے کہا اے خدا! تجھے معلوم ہے کہ ایک مزدور میرے پاس آیا اس نے میری مزدوری کی اور مزدوری کرنے سے پیشتر اس کے کہ وہ اُجرت مجھ سے لے چلا گیا میں نے اُس کی اجرت کے پیسوں سے سوداگری شروع کی اور اس میں سے نفع اٹھاتے ہوئے ایک بکری خریدی اس بکری سے اور بکریاں پیدا ہوئیں یہاں تک کہ سینکڑوں بکریوں اور بھیڑوں کا گلہ میرے پاس ہو گیا وہ کئی سال کے بعد میرے پاس آیا اور کہنے لگا میری اٹھتی رہتی ہے وہ مجھے دے دو۔میں نے اُسے اپنے ساتھ لیا اور سینکڑوں بکریوں اور بھیڑوں کا گلہ اُسے دکھا کر کہا کہ یہ تیری چیز ہے اسے لے جا۔وہ کہنے لگا کیوں مجھ سے مخول کرتے ہو میری صرف اٹھنی رہتی تھی وہ مجھے دے دو۔میں نے اُسے کہا اُس اٹھنی سے میں نے تجارت شروع کی تھی اور اب اس قدر بھیڑیں اور بکریاں ہو گئیں وہ کہنے لگا پھر تو یہ میری نہ ہوئیں بلکہ تمہاری ہوئیں۔میں نے اُسے کہا نہیں میری نہیں بلکہ میں نے تمہارے لئے تجارت کی تھی۔تب وہ نہایت ہی حیران ہوا آخر میرے مجبور کرنے پر وہ بھیڑوں اور بکریوں کے گلوں کو ہا تک کر اپنے ساتھ لے گیا۔اے خدا! اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی اور رضا کیلئے کیا تھا تو مجھ پر رحم کر اور یہ پتھر راستہ سے ہٹا دے۔تب پھر زور سے ایک طوفان اُٹھا اور پتھر تھوڑا سا کی سرک گیا مگر راستہ پھر بھی نہ بنا کیونکہ چٹان بہت بڑی تھی اور ابھی وہ اتنی نہیں لڑکی تھی کہ ان کے کی نکلنے کا راستہ بن جاتا۔تب تیسرا شخص خدا تعالیٰ کے حضور جھکا اور اُس نے کہا اے خدا ! تجھے معلوم ہے کہ میں بکریاں چرایا کرتا ہوں اور دودھ پر میرا گزارہ ہے۔ایک دن مجھے بکریاں چراتے چراتے دیر ہوگئی اور میں جلدی گھر نہ پہنچ سکا میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور بچے چھوٹے چھوٹے جب میں گھر پہنچا تو شعف کی وجہ سے میرے ماں باپ سوچکے تھے اور بیوی بچے جاگ رہے تھے