خطبات محمود (جلد 17) — Page 745
خطبات محمود ۷۴۵ سال ۱۹۳۶ اور بھوک کی وجہ سے میرا انتظار کر رہے تھے جب میں پہنچا تو انہوں نے کہا لاؤ ہمیں دودھ پلاؤ تا کہ ہم دودھ پی کر سو جائیں۔میں نے دودھ کا پیالہ بھرا اور اپنے والدین کی پائینتی کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہا جب تک میرے ماں باپ دودھ نہ پی لیں گے میں کھڑا رہوں گا اور کسی اور کو دودھ نہیں پلاؤں گا۔میری بیوی زاری کرتی رہی اور میرے بچے بیچتے رہے مگر میں نے اُن کی چیخ و پکار کی کوئی پرواہ نہ کی اور دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لئے برابر کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔اُس وقت میرے والدین اُٹھے تو میں نے انہیں دودھ پلایا اور پھر اپنے بچوں اور بیوی کو دودھ پلایا۔اے خدا! اگر میرا یہ کام تیری رضا اور تیری ہی خوشنودی کیلئے تھا اور دنیا کی کوئی غرض اس میں نہ تھی تو تو مجھ پر رحم فرما اور اس پتھر کو راستہ سے ہٹا دے تب پھر زور کا طوفان اُٹھا اور پھر لڑھک کر نیچے گر گیا اور وہ تینوں شخص غار سے باہر نکل آئے۔اب دیکھ لو وہ تین شخص تھے اور انہوں نے تین قسم کے کام کئے مگر وہ سارے کام صرف اس مقصد کیلئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کئے گئے کہ پتھر ہٹ جائے اور وہ پتھر واقع میں ہٹ گیا۔یہ مختلف طریقے تھے جو انہوں نے دعا کیلئے اختیار کئے لیکن دعا ایک ہی تھی اور چونکہ وہ مشترک دعا تھی اس لئے قبول ہوگئی۔اسی طرح تم بے شک اپنے جذبات کو جس طرح چاہوا بھا ر و اور جن جن مثالوں سے اپنی گریہ وزاری کو بڑھا سکتے ہو بڑھاؤ لیکن تان یہیں آکر ٹوٹے کہ اے خدا ! ہم اپنے لئے ، اپنے اہل و عیال کیلئے اور اپنی تمام جماعت کیلئے تجھ سے عفو تام اور تو بہ نصوح ما نگتے ہیں۔ایک رات تو اس قسم کی دعاؤں میں گزارو پھر جو دوسری رات آئے اس میں بھی تم اپنے لئے کچھ نہ مانگو بلکہ وہ رات صرف اپنے خدا کیلئے وقف کر دو اور اُس رات میں بھی صرف ایک ہی دعا مانگو اور وہ یہ کہ اے خدا! تو کامل ہے، ہر تعریف سے مستغنی ہے، ہر عزت سے مستغنی ہے، ہر شہرت سے مستغنی ہے، تجھے اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ تیرے بندے تجھ پر ایمان لاتے ہیں یا نہیں ان کے مان لینے سے تیری شان میں کوئی ترقی نہیں ہو سکتی اور نہ ان کے نہ ماننے سے تیری شان میں کوئی کمی آسکتی ہے۔مگر اے ہمارے رب ! گو تو محتاج نہیں لیکن دنیا تیرے نور کی محتاج ہے کہ تیری صفات دنیا پر جلوہ گر ہوں اور تیرا نور عالم پر پھیلے اور تمام بنی نوع انسان تجھ پر ایمان لائیں اور تیری بادشاہت دنیا میں قائم ہواے خدا! اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے غریب بندوں کی خاطر دنیا پر رحم فرما۔