خطبات محمود (جلد 17) — Page 733
خطبات محمود ۷۳۳ سال ۱۹۳۶ غرض ہونی چاہئے اور وہ غرض یہی ہے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کریں۔غرض میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی شخص میں کوئی کمزوری ہے تو میرا اتنا کہنا ہی اس کیلئے کافی ہے اور اگر افسروں نے کمزوری دکھائی ہے تو انہیں چستی سے کام کرنا چاہئے اور یقین رکھنا چاہئے کہ یہ کام آخر ہو جائے گا۔میں نے متواتر جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ بہت سا کام طوعی طور پر لوگوں سے لینا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس طریق کو اختیار فرمایا تھا اور آج ہی کے الفضل میں وہ حوالہ چھپا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی تحریر فرمایا ہے کہ میں معتین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ مقرر نہیں کر سکتا تا کہ تمہاری خدمتیں کہنے کی مجبوری کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ اپنی خوشی سے ہوں۔تو کارکنوں کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ طوعی طور پر کام کرنے کا موقع دیا کریں اور تحریص اور ترغیب سے کام لیا کریں۔مؤمن در حقیقت زیادہ ترغیب کا منتظر نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے صرف اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اور اس اشارہ کو سمجھ کر وہ ایسے جوش سے کام کرتا ہے کہ بعض لوگوں کو دیوانگی کا شبہ ہونے لگتا ہے۔اسی لئے جتنے کامل مؤمن دنیا کی میں ہوئے انہیں لوگوں نے پاگل کہا ہے۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے میرے اُستاد ہوا کرتے تھے مولوی یار محمد صاحب ان کا نام تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے ان کے دماغ میں کچھ نقص ہو گیا تھا مگر یہ نقص اُن کا اِس رنگ کا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنا محبوب اور اپنے آپ کو عاشق سمجھتے تھے اسی عشق کی وجہ سے وہ خیال کرنے لگے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے پسر موعود اور مصلح موعود بنادیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ بات کرتے کرتے بعض دفعہ جوش میں اپنی رانوں کی طرف یوں ہاتھ کو لاتے جس طرح کی کسی کو بلایا جاتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی رنگ میں جوش سے کچھ کلمات فرمارہے تھے کہ مولوی یار محمد صاحب کو دکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جا بیٹھے بعد میں کسی نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ تو وہ کہنے لگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں - اشارہ کیا تھا اور یہ اشارہ میری طرف تھا کہ تم آگے آجاؤ چنانچہ میں گو دکر آگے آگیا۔یہ دیوانگی تھی مگر بعض رنگ کی دیوانگی بھی اچھی ہوتی ہے آخر ان کی یہ دیوانگی بغض کی طرف نہیں گئی بلکہ محبت کی طرف گئی پس محبت کا دیوانہ غیر اشارہ کو بھی اپنے لئے اشارہ سمجھ لیتا۔