خطبات محمود (جلد 17) — Page 734
خطبات محمود ۷۳۴ سال ۱۹۳۶ پھر جو قوم خدا تعالیٰ کی محبت کا دعوی کرنے والی ہو وہ صحیح اشارہ کو کیوں نہیں سمجھ سکتی۔کیا ہماری جماعت کے دیوانوں کی وہ محبت جو وہ سلسلہ سے رکھتے ہیں مولوی یار محمد صاحب جتنی بھی نہیں کہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رانوں پر آہستگی سے ہاتھ مارا اور انہوں نے سمجھا کہ مجھے بلا رہے ہیں۔یا درکھو ہر چیز کی زکوۃ ہوا کرتی ہے انسان کے جسم کی بھی زکوۃ ہے، انسان کے مکان کی بھی زکوۃ ہے اور زکوۃ کے بغیر کوئی چیز پاک نہیں ہوسکتی۔اور زکوۃ کی ایک دفعہ ادا ئیگی خدا تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمائی بلکہ ہر سال ادا کرنے کا حکم ہے حتی کہ قرآن کریم نے یہ زکوۃ بھی مقرر کر دی کہ جب کوئی تمہارا پھل تیار ہو یا غلہ تیار ہو تو اُس میں سے اُسی دن جس دن غلہ کا ٹو یا پھل اُتارو کچھ خدا کے بندوں کیلئے بھی الگ کر لو۔تو شریعت نے ہماری ہر چیز کی زکوۃ مقرر کی ہے کیونکہ در حقیقت اسلامی مسئلہ ہے ہی یہی کہ دنیا کی ہر چیز سارے بندوں کی ہے۔پس جب تک باقی بندوں کیلئے حصہ نہ نکال لیا جائے وہ چیز پاک نہیں ہوتی بھلا خدا تعالیٰ نے زمین آسمان ، سورج چاند ، ستار - اور سیارے اپنے تمام بندوں کیلئے پیدا کئے ہیں یا صرف ہمارے لئے۔پھر جبکہ تمام بندوں کیلئے ہیں تو گویا یہ شاملات ہے اور شاملات پر جو شخص قبضہ کرے وہ گاؤں والوں کو مٹھائی بھی کھلاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے میں اس چیز پر قبضہ کرنے لگا ہوں جس پر تمہارا بھی حق ہے۔پس ہر چیز جو ہمارے پاس ہے وہ صرف ہماری نہیں بلکہ ساری دنیا کی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم باقی دنیا کا اس میں سے حصہ نکالیں ورنہ ہمارا قبضہ جابرانہ ہوگا اور جابرانہ قبضہ کی سزا ہوا کرتی ہے۔جب انسان زکوۃ دیتا رہتا ہے تو خدا تعالیٰ کہتا ہے یہ میرا بندہ اس چیز کا کرایہ دیتا ہے اسے رہنے دو لیکن جب وہ زکوۃ نہیں دیتا تو خدا تعالیٰ کہتا ہے یہ اب کرا یہ نہیں دیتا اسے نکال دو۔یہ مت خیال کرو کہ دنیا میں ایسی قومیں بھی موجود ہیں جو کرائے نہیں دیتیں۔کیا تم نہیں جانتے کہ بنئے نے جسے تباہ کرنا ہوتا ہے اس سے وہ اپنائو دوصول نہیں کرتا بلکہ اس کی طرف رہنے دیتا ہے۔ابھی فیروز پور میں ایک مقدمہ ہوا ہے ایک شخص نے ۸۴ روپے سود پر قرض لئے۔۶۴ روپے کے بدلہ میں اُس نے اپنی زمین گرو رکھ دی اور ۲۰ روپیہ کے بدلے میں اُس نے کہا کہ میں چھ روپے سالا نہ سود دیا کروں گا لیکن اس نے سود نہ دیا اور یہ خیال کرتا رہا کہ ہمیں روپے ہی ہیں کسی وقت