خطبات محمود (جلد 17) — Page 686
خطبات محمود ۶۸۶ سال ۱۹۳۶ تمہاری تعداد کو غیر معمولی طور پر نہیں بڑھائے گا آخر خدا تعالیٰ تمہاری تعداد کو کیوں بڑھائے۔کیا اس لئے کہ نفاق اور شرارت بھی ساتھ ساتھ ترقی کرے ہاں جب تم نفاق کو اپنے اندر سے نکال کر باہر پھینک دو گے، جب تم شرارت اور فتنہ انگیزی سے بکلی مجتنب ہو جاؤ گے تب خدا تمہارے متعلق کہے گا کہ یہ پیج ہے جو جنت کا بیج ہے آؤ میں اسے اپنی جنت میں بووؤں لیکن اگر تمہارے اندر نفاق ہوگا تو تمہاری مثال گھن کھائے ہوئے بیج کی طرح ہو گی اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ اپنے باغ میں گھن کھائے ہوئے بیج کو کبھی بونے کیلئے تیار نہیں ہوتا بلکہ پھل دینے والا پیج اپنی جنت میں ہوتا ہے اور پھل دینے والا بیج وہی ہے جو نہ منافق ہے نہ منافقت کی کوئی رگ اس میں پائی جاتی ہے۔ایسا شخص یقیناً جنت کا بیج ہے اور وہ جنت میں دائمی زندگی حاصل کرے گا۔تم کیا سمجھتے ہو کہ جنت کیا چیز ہے جنت وہی جگہ تو ہے جو ان پاکیزہ ارواح کا مسکن ہے جو ہر قسم کے کفر اور نفاق سے پاک ہوں گے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَادْخُلِی فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي A کہ اے میرے بندے! جا اور تو جنت کا درخت بن جا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرما یا غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِي ؟ میں نے اپنے ہاتھ سے تیرے لئے اپنی رحمت اور قدرت کا درخت بویا ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے تیرے لئے اسماعیلی درخت بویا ہے یعنی ایک ایسا بیٹا مقدر کیا ہے جو اسماعیلی رنگ رکھتا ہوگا یعنی وہ سب دنیا سے مقابلہ کرے گا اور دنیا اس کا مقابلہ کرے گی۔اسی طرح صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی نسبت فرمایا کہ کابل سے اُکھیڑا گیا اور ہمارے ہاں لگایا گیا اے۔پس جنت کے اصل درخت وہی روحیں ہیں جو دنیا سے پاک ہو کر اپنے رب کے حضور جاتی اور خدا کے نور کے پانی سے دائمی زندگی بسر کرتی ہیں۔پس اگر تم دائمی زندگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو نفاق کو اپنے دلوں سے نکال دو اور کامل پاکیزگی اور کامل طہارت حاصل کر کے جنت کے درخت بن جاؤ تب خدا تمہارے پاس آئے گا اور وہ تمہیں ہمیشہ کیلئے اپنے قرب میں جگہ عطا فرمائے گا۔( الفضل ۲۴ اکتوبر ۱۹۳۶ء) النساء: ۵۷ هود ۱۱۴ :