خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 685 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 685

خطبات محمود ۶۸۵ سال ۱۹۳۶ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے الہام سے جو لذت ہم اُٹھا سکتے ہیں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہیں اٹھا سکتے تھے۔خیر تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا جس طرح آسمان کے ستاروں کو کوئی شخص گن نہیں سکتا اسی طرح تیری اولاد کو بھی کوئی رگن نہیں سکے گا۔اب آسمان کے ستاروں کی جو حقیقت بیان کی گئی ہے اس کے مطابق اس پیشگوئی کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولا د غیر محدود ترقی کرے گی اور اگر کبھی لوگ اسے گننے پر قادر ہونے لگیں گے تو جھٹ خدا تعالیٰ اسے بڑھا دے گا کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے زمین و آسمان خدا تعالیٰ کی مٹھی میں ہیں۔پس جو چیز خدا تعالیٰ کی مٹھی میں ہو اُس کا انسان کہاں اندازہ لگا سکتا ہے۔اسی لئے جب انسان کا علم اس اندازے کے قریب قریب پہنچنے لگتا ہے تو خدا تعالیٰ اس دنیا کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔اس نے علم سے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کے کی صداقت کا سائنس نے اقرار کر لیا اور معلوم ہو گیا کہ زمین و آسمان کا اندازہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا اور جب بھی انسانوں کا اندازہ حقیقت کے قریب پہنچے گا دنیا اور زیادہ پھیل جائے گی کیونکہ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ بتاتا ہے کہ عالم کا اندازہ محض خدا تعالیٰ کے علم میں ہے اس کے سوا اور کوئی شخص اس کا احاطہ نہیں کر سکتا اسی لئے انسان جب اپنے خیالی علم کے ذریعہ اپنے خیال میں ایک اندازہ تک پہنچ گیا تو معاً بعد اُسے معلوم ہوا کہ حقیقت تو اور ہی ہے اور خدا تعالیٰ نے دنیا کو اور زیادہ پھیلا دیا ہے۔پس ہم جس معرفت کو حاصل کئے ہوئے ہیں اس کے مطابق منافقین کا جماعت۔علیحدہ ہونا ہرگز جماعت کیلئے نقصان دہ نہیں ہوسکتا بلکہ غیر محدود ترقی کا موجب ہوگا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی ایک شخص مرتد ہوگا تو اللہ تعالیٰ اُس کی جگہ اُس سے بہتر قائمقام لائے گا۔پس ہمیں ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں تم صداقت قائم کرنے اور کفر اور نفاق کو اپنے اندر سے نکالنے کی کوشش کرو خواہ وہ نفاق تمہارے اندر ہو یا تمہارے بیوی بچوں اور عزیز ترین وجودوں میں۔تم ان سب کو اللہ تعالیٰ کیلئے قربان کر دو تا تمہیں وہ انعام حاصل ہوں جو قربانی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں۔یادرکھو جب تک تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے عزیزوں کو قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ہو گے اُس وقت تک خدا تعالیٰ خود