خطبات محمود (جلد 17) — Page 682
خطبات محمود ۶۸۲ سال ۱۹۳۶ وہ ہر وقت تیار ہیں تو بتاؤ ان کے ایمان اور ان کی دیانتداری پر میں کس طرح یقین کر سکتا ہوں۔میں تو یہ سمجھوں گا کہ ان میں بھی نفاق کی کوئی نہ کوئی رگ پائی جاتی ہے اگر ان میں نفاق نہیں تو وہ طاعون سے مرے ہوئے چوہوں کو اپنے گھروں میں کیوں نہیں رکھتے۔اسی لئے نا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چوہے رکھنے سے ہمیں طاعون لگ جائے گی۔پھر جب وہ طاعون سے مرا ہوا چوہا رکھنے۔ڈرتے ہیں لیکن منافق کے ساتھ ملنے اور اُس سے دوستی اور تعلق رکھنے میں کوئی ضرر نہیں دیکھتے تو ی کیوں یہ نہ سمجھا جائے کہ خود ان کے اندر نفاق کی کوئی رگ پائی جاتی ہے۔ނ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سنایا ہوا ایک اور واقعہ بھی مجھے یاد ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے جالینوس ایک دفعہ بازار میں سے گزر رہا تھا کہ ایک دیوانہ دوڑتا ہوا آیا اور اس سے چمٹ گیا۔جالینوس جب گھر واپس گیا تو جاتے ہی اس نے اپنی فصد کھلوائی۔کسی نے پوچھا آپ فصد کیوں کھلواتے ہیں وہ کہنے لگا ہمیشہ ایک چیز کی طرف اسی جنس کی چیز رجوع کیا کرتی ہے آج جب ایک مجنون اور دیوانہ شخص بازار میں مجھ سے چمٹ گیا تو میں نے سمجھا کہ میرے اندر بھی ضرور کوئی دیوانگی کی رگ ہے پس کیوں نہ اس کے ظاہر ہونے سے پہلے میں اس کا علاج کرلوں۔غرض پہلے اپنی عقلوں سے کام لو، پھر دعاؤں اور انابت الی اللہ سے کام لو، اس کے بعد ہمت اور جرات۔کام لو، بُزدل اور ڈرپوک مت بنو اور یہ مت خیال کرو کہ تم دس یا بیس ہزار آدمی کھو کر اپنا نقصان کرو گے۔یقیناً اگر دس لاکھ آدمی بھی کسی کچی جماعت سے نکل جائیں تو وہ ایک کروڑ بن کر ہم میں آئیں گے اور تخلص بن کر آئیں گے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کی ایک بیوی جو فوت ہو گئیں نہایت سادہ طبع اور بہت ہی مخلص تھیں۔ان کی نرینہ اولا دکوئی زندہ نہیں رہتی تھی صرف دولڑ کیاں تھیں جن میں سے چھوٹی مفتی فضل الرحمن صاحب سے بیاہی گئی اور بڑی مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے لڑکے مولوی عبدالواحد صاحب سے۔ان دونوں لڑکیوں کی آگے اولاد ہے۔مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کا بہت لوگوں نے نام سنا ہوگا وہ انجمن سعودیہ کے ہندوستان میں نمائندے ہیں اور کانگرس میں بھی بہت عرصہ تک کام کر چکے ہیں اور غزنوی خاندان کے مشہور فرد ہیں۔مفتی فضل الرحمن صاحب کی اولا دشروع شروع میں مرجاتی تھی اس سے قدرتی طور پر نانی کو تکلیف ہوتی کہ میری اولا دتو