خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 681 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 681

خطبات محمود ۶۸۱ سال ۱۹۳۶ اور اُس نور اللہ کو انہوں نے بوسہ دیا مگر مجھے اس میں سے نور اللہ نظر نہ آیا اس لئے میں نے اُسے بوسہ نہ دیا اگر میں اسے بوسے دیتا تو وہ حفظ نفس ہوتا اپنے پیر کی اتباع نہ ہوتی لیکن اب جبکہ انہیں آگ میں نور اللہ نظر آیا مجھے بھی اس میں سے نور اللہ دکھائی دیا پس میں نے بھی آگ کو بوسہ دے دیا۔اگر تم نے بھی لڑکے میں نور اللہ دیکھ کر اُسے بوسہ دیا تھا تو اب آگ کو کیوں بوسہ نہیں دیتے ؟ اور اگر تم نے محض حظ نفس کی وجہ سے لڑکے کو چوما تھا تو مجھ پر تمہارا اعتراض کس طرح درست ہوسکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کا نور ظاہر ہوتا اور خدا تعالیٰ کے پیاروں کو نظر آ جاتا ہے چاہے وہ آگ میں نظر آئے یا کسی اور چیز میں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ کا یہ نور آگ میں نظر آیا تھا اور وہ اس کی طرف دوڑتے ہوئے چلے گئے تھے۔پس اس صداقت کے مقابلہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پھر اسی طرح صلى الله ظاہر ہوئی جس طرح حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ ظاہر ہوئی تھی انسانوں کی کوئی ہستی نہیں کہ ان کا لحاظ کیا جا سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فرمودہ مجھے اس وقت ایک اور مثال بھی یاد آ گئی ہے جو مُردہ گتے والی مثال سے زیادہ بہتر مثال ہے آپ فرمایا کرتے تھے ایسے لوگوں کی طاعون سے کی مرے ہوئے چوہوں جتنی بھی حیثیت نہیں ہوتی اور یقیناً یہ مثال مُردہ گتے سے بھی زیادہ واضح ہے کیونکہ مرے ہوئے گتے کی لاش میں گوٹھ اور سڑاند ہوگی لیکن طاعون سے مرے ہوئے چوہے میں بو اور سٹراند کے علاوہ طاعون کا زہر بھی ہوگا۔پس مرے ہوئے کتے سے صرف ناک اذیت اُٹھاتا ہے لیکن طاعون سے مرے ہوئے چوہے سے ناک کے ساتھ جان بھی تکلیف پاتی ہے کیونکہ ایسا چو ہا انسانی جان کو بھی تلف کر دیتا ہے۔پس تمہارے اندرا گر نفاق ہے تو اسے دور کرو اور اگر تمہارے اندر نفاق نہیں تو تمہارا وہ کی ہمسایہ جس میں نفاق ہے اس کے نفاق کو دور کرنے کی کوشش کرو اور اس کے زہر سے دوسروں کو بچاؤ اور اگر تم اس کی حمایت اور حفاظت کیلئے کھڑا ہونا چاہتے ہو تو میں تم سے درخواست کروں گا کہ تم طاعون سے مرا ہوا چوہا اگر اپنے گھر میں رکھ لو تو میں سمجھوں گا کہ تم دیانتدار ہو۔ایسے لوگ اگر آمادہ ہوں تو اب کی دفعہ جب طاعون پڑے تو طاعون زدہ علاقے سے مرے ہوئے چوہے لائیں اور اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیں اور اگر وہ اس کیلئے تیار نہیں لیکن منافق کو پناہ دینے کیلئے