خطبات محمود (جلد 17) — Page 670
خطبات محمود ۶۷۰ سال ۱۹۳۶ ہے کہ اگر پانی ٹھنڈا ہے تو گرم کرلے گویا یہ ایک اختیاری ابتلاء ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا اور انسان کو اس بات کی اجازت دی کہ اگر ٹھنڈے پانی سے تم وضو نہیں کر سکتے تو ہمت کرو اور آگ پر پانی گرم کر لو۔اور اپنے گھر میں آگ موجود نہیں تو ہمسایہ کے گھر سے آگ لے کر پانی گرم کر لو اور گرم پانی سے وضو کرنے کے بعد اچھی طرح گرم کپڑے پہن لو تا تمہیں سردی محسوس نہ ہو۔یا بعض اوقات لوگ مسجدوں میں حمام بنا دیتے ہیں جن میں پانی گرم رہتا ہے۔پس جو لوگ غریب اپنے گھروں میں پانی گرم نہیں کر سکتے وہ مساجد میں جا کر حمام سے وضو کر سکتے ہیں یا اگر مسجد میں گرم حمام کا انتظام نہیں تو پھر اگر کوئی ہمت والا کنویں سے تازہ پانی کا ڈول نکال کر اس سے وضو کر لیتا ہے اس طرح بھی وہ سردی سے بچ جاتا ہے کیونکہ سردیوں میں کنویں کا تازہ پانی قدرے گرم ہوتا ہے۔پس اگر کوئی ذریعہ اس کے پاس موجود نہیں تو وہ اس طرح اپنی تکلیف کو دور کر سکتا ہے۔اسی کی طرح فرماتے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا کہ علی الصبح اُٹھے اور نماز فجر پڑھے۔اب سردیوں میں صبح کے وقت اُٹھنا کتنا دو بھر ہوتا ہے لیکن انسان کے پاس اگر کافی سامان ہو تو یہ تکلیف بھی اسے محسوس نہیں ہو سکتی۔مثلا اگر اسے تہجد کی نماز پڑھنے کی عادت ہے تو وہ یہ کر سکتا ہے کہ تہجد کی نماز پڑھتے وقت کمرے کے دروازے اچھی طرح بند کرے تا کمرہ گرم رہے اور باہر کی ٹھنڈی ہوا اندر نہ آسکے۔اسی طرح جب فجر کی نماز پڑھنے کیلئے مسجد کو جائے تو کمبل یا ڈلائی اوڑھ سکتا یا گرم کوٹ پہن کر جا سکتا ہے اور اگر کوئی غریب بھی ہو تو وہ بھی پھٹی پرانی صدری یا کوٹ پہن کر جا سکتا اور سردی کے اثر سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔اور اگر کوئی شخص بالکل ہی غریب ہو اور اس کے پاس نہ کمبل ہو نہ دلائی نہ صدری نہ کوٹ تو اسے بھی زیادہ تکلیف نہیں ہو سکتی کیونکہ ایسے شخص کو سردی کے برداشت کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جس چیز کا انسان عادی ہو جائے وہ اس کو تکلیف نہیں دیتی۔میں نے دیکھا ہے کہ باورچی خانہ میں کام کرنے والی عورتیں اپنے ہاتھوں سے چولہے سے انگارے نکال لیتی ہیں اور انہیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی حالانکہ ہم ان انگاروں کے قریب بھی نہیں جاسکتے۔اسی نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ دوزخیوں کو جب دوزخ میں عذاب دیا جائے گا تو کچھ عرصہ کے بعد جب ان کی جلدیں پک جائیں گے اور انہیں عذاب سہنے کی عادت ہو جائے گی تو بَدَّلْنَهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لے ہم ان