خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 671 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 671

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ کے چھڑے تبدیل کر دیں گے اور نیا چمڑہ انہیں دے دیں گے کیونکہ اگر ایک ہی چمڑہ رہے تو انہیں دوزخ کا عذاب سہنے کی عادت ہو جائے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء دوزخیوں کو دوزخ کا عذاب محسوس کرانا ہے اس لئے تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد انہیں نئی جلدیں ملیں گی تا وہ عذاب ہمیشہ محسوس کرتے رہیں اور عذاب کا عادی ہو جانے کی وجہ سے اس کی تکلیف کا احساس ان کے دلوں سے مٹ نہ جائے۔میرا مضمون گو اور ہے مگر چونکہ قرآن مجید کا جب ذکر آتا ہے تو توجہ خود بخود اس کی طرف پھر جاتی ہے اس لئے اس جگہ ایک قابلِ ذکر نکتہ بھی بیان کر دیتا ہوں۔تم تمام دنیا کی علمی کتابوں کو پڑھ کر دیکھ لو تمہیں معلوم ہوگا کہ اعصاب کا تفصیلی علم ہمارے زمانہ کی دریافت ہے اس سے پہلے قدیم طب میں اعصاب کا علم اس طرح موجود نہیں تھا کیونکہ اس علم کا بہت سا تعلق خوردبین ہے جو پہلے معلوم نہ تھی اس وجہ سے پہلے زمانہ کے اطباء اس بات کو بہ تفصیل نہ جانتے تھے کہ انسان کی تمام جلد پر جس والے اعصاب کا ایک جال پھیلا ہوا ہے اور وہ جال اتنا باریک ہے کہ خوردبینی سے بھی بعض دفعہ نظر نہیں آسکتا۔یہ موجودہ زمانے کی تحقیق کا نتیجہ ہے مگر قرآن مجید نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جس جلد کے ذریعہ ہوتی ہے حالانکہ پہلے علمی رنگ میں یہ بات ثابت نہیں تھی۔غرض قرآن کریم نے ہی سب سے پہلے دنیا کو یہ نکتہ بتایا ہے کہ جس والے اعصاب جلد پر پھیلے ہوئے ہیں اور جب کسی انسان کی جلد جل جائے یا پختہ ہو جائے تو اس کی جس کم ہو جاتی ہے۔اسی امر کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کچھ کچھ عرصہ کے بعد دوزخیوں کی جلد کو بدل دے گا اور اس طرح تازہ اور زندہ اعصاب انہیں دے کر ان کی جس کو پھر مکمل کر دے گا تا وہ عذاب محسوس کریں۔بہر حال خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جب کسی شخص کو کسی دکھ یا تکلیف کی عادت ہو جائے تو اس کے متعلق اس کا احساس کم ہو جاتا ہے اور چونکہ سردیوں میں غرباء کے پاس گرم کپڑے نہیں ہوتے اور نہ اور سامان ہوتے ہیں جن سے انہیں سہارا حاصل ہو اس لئے ان کی جلد کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مضبوط کر دیا جاتا ہے گویا یہ خدائی لباس یا خدائی کوٹ ہوتا ہے جو سردیوں میں غرباء کو پہنایا جاتا ہے۔جب کسی شخص کو گرم کوٹ سردی سے محفوظ رہنے کیلئے نہیں ملتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی جلد میں ایسی طاقت پیدا کر دی جاتی ہے کہ اسے سردی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ سردی کی