خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 636

خطبات محمود ۶۳۶ سال ۱۹۳۶ مگر خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ نَعُوذُ بِاللهِ ساکن ہے اللہ تعالیٰ کیلئے کون سی قدامت ہے کہ ہم ان معنوں میں اُس کے متعلق وقار کا لفظ استعمال کر سکیں۔انسانوں کیلئے تو بیشک ایک قدیم خیال ہو سکتا ہے اور ایک جدید لیکن اللہ تعالیٰ تو وہ ہے جو وحدہ لاشریک ہے اس کیلئے خاندانوں یا قوموں کی رسم و رواج کا کون سا سوال ہے کہ سکون کا لفظ اس کے متعلق استعمال کیا جا سکے۔اُس کے متعلق وقار کے یہی معنے ہوں گے کہ وہ موقع اور محل کے مطابق کسی غرض اور حکمت کے ماتحت کام کرنے والا ہے اور جب خدا تعالیٰ کے متعلق وقار کا لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے تو ایک مسلمان بھی جب اس لفظ کا استعمال کرے گا تو انہی معنوں میں استعمال کرے گا۔پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان کو باوقار ہونا چاہئے تو اسلامی نقطہ نگاہ کے ماتحت اس کے یہی معنے ہوں گے کہ انسان کو موقع اور محل کے مطابق عقلمندی اور دانائی سے کام کرنا چاہئے۔اب وقار کے ایک معنے معین ہو گئے اور اس کے معنوں کا ابہام دور ہو گیا اور ہمیں معلوم ہو گیا کہ باوقار اسے کہتے ہیں جو عقل اور سمجھ کے ماتحت موقع اور محل کی رعایت مد نظر رکھتے ہوئے ایسا کام کرے جس میں کوئی حکمت اور فائدہ ہو اور بے وقار اُس شخص کو کہیں گے جو ایسے افعال کا مرتکب ہو جو حکمت اور فائدہ سے خالی ہوں اور جو موقع اور محل کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے خلاف عقل اور خلافِ دانش ہوں۔اس تعریف کے لحاظ سے وہ مثالیں جو میں پہلے دے آیا ہوں اگر ان کو دیکھا جائے تو فوراً پتہ لگ جائے گا کہ ان میں بیان کردہ وہ کون سے فعل وقار کے مطابق ہیں اور کون سے فعل وقار کے خلاف ہیں۔ایک عورت جو گھر میں رہ سکتی ہے، جو عورت برقعہ بناسکتی ہے اور برقعہ پہن سکتی ہے وہ اگر کسی موقع پر بغیر کسی خاص ضرورت کے اپنا نقاب اٹھا دیتی ہے تو چونکہ اس نے پردہ اُتارا حالانکہ وہ پردہ کرسکتی تھی اور چونکہ قرآن مجید نے حکم دیا تھا کہ جو عورت اپنی زینت کے مقامات کو چھپا سکتی ہے وہ چھپائے اور اُس نے باوجود زینت کے مقامات چھپانے پر مقدرت رکھنے کے زینت کا مقام نہیں چھپایا اس لئے کہا جائے گا کہ وہ عورت بے وقار ہے اور اُس کا یہ فعل وقار کے خلاف ہے۔لیکن ایک زمیندار عورت جو برقعہ نہیں بنوا سکتی جو اپنی ضروریات کے لحاظ سے برقعہ نہیں پہن سکتی اور جو اس بات پر مجبور ہے کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے رزق کمانے کیلئے اپنے خاوند کے ساتھ کھیتی پر جائے اور کام میں اُس کا ہاتھ بٹائے اس کیلئے اتنا ہی کافی