خطبات محمود (جلد 17) — Page 630
خطبات محمود ۶۳۰ سال ۱۹۳۶ اور چونکہ میں ایسی ٹوپی اپنے سر پر رکھنا پسند نہیں کرتا اس لئے میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور بھی ایسی ٹوپی سر پر رکھے۔اب وہی کوٹ جس پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے فقرات لکھے گئے ہیں اس دوست کو تو وقار کے خلاف نظر آیا لیکن حضرت باوا نانک صاحب کو ایسا کوٹ وقار کے خلاف نظر نہیں آیا۔وہ ایک بزرگ انسان تھے، ایک قوم کے لیڈر تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے اس فعل سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا ہے اور حضرت باوا نانک صاحب کے چولہ کا حوالہ دے کر ان کے اخلاص کی بہت تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ ایسے مخلص تھے کہ جگہ بجگہ وہ ایسا کوٹ پہنے پھرتے تھے جس پر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اُس کی واحدانیت لکھی ہوئی تھی۔تو حضرت باوا نا نک صاحب کو یہ چیز وقار کے عین مطابق نظر آئی لیکن ہمارے اس دوست کو یہ بات وقار کے خلاف دکھائی دی اس لئے کہ اس دوست کی آنکھ ایسی بات دیکھنے کی عادی نہ تھی اور حضرت باوا نانک صاحب کا نفس ایسی باتوں کے برداشت کرنے کا عادی تھا۔حضرت باوا نانک صاحب نے سمجھا کہ میں تو لوگوں کی ہدایت چاہتا ہوں اگر اس چولہ کے ذریعہ ہی انہیں ہدایت مل سکتی ہے تو میرا اس میں کیا حرج ہے کہ میں اسے پہنے پھروں۔پس انہوں نے اسے عین وقار سمجھا لیکن یہی فعل اس زمانہ میں کیا گیا تو اس دوست کو وقار کے خلاف معلوم ہوا۔تو دراصل وقار کے وہ معنے درست نہیں ہیں جو عام لوگ سمجھتے ہیں بلکہ وقار کے کچھ اور معنے ہیں۔اور عقلاً بھی جس بات کی ہم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ہم میں ہونی چاہئے اس کا کوئی مفہوم ہونا چاہئے اور مفہوم بھی ایسا جو مستقل ہو یعنی اصولی لحاظ سے وہ تبدیل نہ ہو گو تفصیلات میں اس کا مفہوم بدل بھی سکتا ہے جیسے نماز ہے۔اصولی رنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ نماز ا سے کہتے ہیں اور نماز اس طرح پڑھنی چاہئے۔اب جو تندرست ہو وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے، جو بیمار ہو وہ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے، جو زیادہ بیمار ہو وہ لیٹ کر پڑھ سکتا ہے اور جو اور زیادہ بیمار ہو وہ دل میں ہی پڑھ سکتا ہے، پھر جنگ کی حالت میں گھوڑے کی پیٹھ پر ہی انسان نماز پڑھ سکتا ہے خواہ اس گھوڑے کا منہ کسی طرف بھی ہو جائے یا کشتی میں انسان نماز پڑھتا ہے تو خواہ کشتی کسی رُخ چلتی چلی جائے پڑھنے والے کی نماز ہوتی جائے گی۔تو شکل کے بدل جانے میں کوئی حرج نہیں ہاں اصول ایک ہونا چاہئے۔پس ہمیں وقار کے ایسے معنے معلوم کرنے چاہئیں جن معنوں کی رو سے ہم ایسے محفوظ اور