خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 582

خطبات محمود ۵۸۲ سال ۱۹۳۶ مرزا صاحب کو ایک ایک روپیہ نذرانہ دیتے ہوں تو دو لاکھ روپیہ کا نذرانہ انہیں آجاتا ہوگا اور اگر وہ چار چار آنے بھی آپ کو نذرانہ دیں تو پچاس ہزار روپیہ نذر کا تو آپ کو ہر سال مل جاتا ہوگا۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل فرماتے کہ میں نے اُسے کہا کہ پہلے تم یہ بتاؤ کہ آج تک تم نے مجھے کتنی چونیاں دی ہیں؟ جس قدر تمہاری طرف سے مجھے چونیاں پہنچی ہیں وہ گنا دو اور پھر اس پر دوسروں کا قیاس کرلو اس پر وہ خاموش ہو کر چلا گیا۔تو منافق آدمی ہمیشہ دوسروں کے متعلق بے بنیاد باتیں کرتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں یوں ہے اور فلاں یوں۔پس ان کی باتوں سے گھبرانا نہیں چاہئے اور نہ ان کی پروا کر نی چاہئے کیونکہ کوئی معقول وجہ ایسی نہیں ہوتی جس کی بناء پر سمجھا جا سکے کہ واقعہ میں ہمارا فلاں بھائی ایسا ہے۔وہ صرف اپنا پہلو بچانے کیلئے اعتراض کرتا ہے اور اس کی غرض محض اپنے آپ سے اعتراض کو دور کرنا ہوتا ہے اور یہی علامت منافق کی ہے ورنہ کیا یہ جواب دینے سے کہ چونکہ فلاں شخص نجاست پر منہ مارتا ہے اس لئے میں بھی ایسا کرتا ہوں کوئی شخص بری الذمہ سمجھا جاسکتا ہے!! مثل مشہور ہے کہ کسی شخص نے دوسرے سے برتن ما نگا مگر دیر تک واپس نہ کیا۔ایک دن یہ اُس کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ اُس برتن میں ساگ کھا رہا ہے۔یہ کہنے لگا چوہدری ! یہ بات تو اچھی نہیں کہ تم نے میرا برتن لیا مگر اُسے واپس نہ کیا اور اب اس میں ساگ کھا رہے ہو میرا نام بھی تم بدل دینا اگر میں تمہارے برتن میں جا کر پاخانہ نہ کھاؤں۔ان منافقوں کا جواب اگر واقعات کے لحاظ سے درست ہو تب بھی اس کی حیثیت اس جواب سے زیادہ نہیں ہے۔بھلا یہ بھی کوئی جواب ہے کہ میں اگر جھوٹ بولتا ہوں تو فلاں بھی جھوٹ بولتا ہے، میں اگر فریب کرتا ہوں تو فلاں بھی فریب کرتا ہے، میں اگر غداری کرتا ہوں تو فلاں بھی غداری کرتا ہے، میں اگر بدکاری کی کرتا ہوں تو فلاں بھی بدکاری کرتا ہے، گویا چونکہ دوسرا شخص بھی جھوٹ بولتا ، فریب کرتا ، غداری کرتا اور بدکاری کا مرتکب ہوتا ہے اس لئے جھوٹ جھوٹ نہ رہا، فریب فریب نہ رہا ، غداری غداری نہ رہی اور بدکاری بدکاری نہ رہی۔غرض یہ یقینی بات ہے کہ جوں جوں جماعت قربانی میں ترقی کرے گی منافق چونکہ ساتھ نہیں چل سکے گا اس لئے وہ شور مچانے لگ جائے گا کہ یہ بھی ناجائز ہے اور وہ بھی ناجائز مگر جماعت کو ادھر ادھر نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ سیدھا اپنی منزل مقصود کی طرف پڑھتے چلے جانا چاہئے۔