خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 54

خطبات محمود ۵۴ سال ۱۹۳۶ء جواب دیا کہ یہ لوگ ہمارا قانون توڑتے ہیں اس لئے ہم انہیں گرفتار کرتے ہیں آپ کا اس سے تعلق نہیں۔اب وہ افسر جن کو میرا یہ پیغام پہنچا ہے وہ ان لوگوں کے پرو پیگنڈا کو دیکھ کر اپنے دل میں ضرور ہنستے ہوں گے اور حیران ہوتے ہوں گے کہ یہ لوگ کس قدر جھوٹے ہیں۔بہر حال ان وی کے اس پرو پیگنڈا سے ہمارا تو فائدہ ہی ہے افسر سمجھتے ہوں گے کہ یہ لوگ کس قدر جھوٹے ہیں۔ہمارا مطلب تو صرف یہ تھا کہ یہاں آکر یہ لوگ فساد نہ کریں اور فساد کو روکنا ہر حکومت کا فرض ہے اور بعض ٹٹ پونجئے ۵ اگر قادیان میں آبھی جائیں یا کسی لیڈر کے آنے پر سو ، پچاس آدمی جو قادیان کے ہیں ان کے گرد جمع ہو جائیں تو اس سے شورش کا کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔پس یہ امر واقعہ ہے کہ میں نے خود شیخ صاحب کو بھیجا کہ ہماری طرف سے ہرگز یہ مطالبہ نہیں کہ کوئی غیر احمدی قادیان نہ آسکے ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ قادیان کو فساد کا مقام نہ بننے دیا جائے یا اس جگہ شرارتی آمیز مظاہرے نہ ہوں۔اس پر چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ ہمارے ڈپٹی کمشنر نے ایک قانون نافذ کیا ہے جب تک وہ قانون نافذ ہے اس کے توڑنے والے سزا کے مستحق ہیں جب وہ قانون واپس لے لیا جائے گا وہ نہ پکڑے جائیں گے۔لیکن یہ لوگ مشہور کر رہے ہیں کہ ہم نے کی ناک رگڑی کہ یہ دفعہ واپس نہ لی جائے۔پس دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس دفعہ کے منسوخ کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکومت نے ہم سے دشمنی کی ہے۔جب حکام ہماری مخالفت کرتے ہیں میں صاف کہہ دیتا ہوں اور جو مخالفت ہوتی ہے اُسے میں خوب جانتا ہوں اور جب ضرورت ہوتی ہے اسے ظاہر کر دیتا ہوں اور دنیا جانتی ہے کہ میں اس کے اظہار میں کسی سے دبنے والا نہیں ہوں لیکن یہ کاروائی نہ ہماری مخالفت کی وجہ سے ہے اور نہ ہی یہ حکومت کی شکست ہے قانون کے مطابق حکومت کو یہی کرنا چاہئے تھا جو اُس نے کیا۔پس دوست ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ یہ دفعہ واپس لے کر حکومت نے ہمارے ساتھ دشمنی کی ہے اس نے قانون کے عین مطابق کیا ہے۔ہاں جن باتوں میں ہمیں حکومت سے شکایت ہے وہ اب بھی موجود ہیں مگر وہ علیحدہ ہیں اس لئے دوستوں کو ایسے پروپیگنڈا سے ہرگز متاثر نہیں ہونا چاہئے۔مؤمن بلا وجہ کبھی کسی پر الزام نہیں لگاتا ہے ہم نہ حکومت پر الزام لگاتے ہیں نہ احرار پر۔ہاں جو بھی غلطی کرے گا اس کا اظہار ضرور کر دیں گے اور اس معاملہ میں ہم کسی فوج یا حکومت سے نہیں ڈریں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ اچھی بات کو