خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 529

خطبات محمود ۵۲۹ سال ۱۹۳۶ کیلئے۔یعنی عبودیت کا دعویٰ بغیر استعانت کے بالکل غلط ہے اور اسی طرح استعانت بغیر عبودیت کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں تو اُس پر فرض ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی اتکال کرے اور ادھر اُدھر اپنی نظر نہ اُٹھائے۔کیا تم نے کبھی یہ دیکھا ہے کہ کو ئی شخص کہتا ہو کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں اور پھر اور لوگوں کے گھروں سے کھانا اور کپڑا مانگتا پھرتا ہو۔اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ درحقیقت اپنے آپ کو اُس شخص کا بیٹا نہیں سمجھتا بلکہ یہ صرف اس کے منہ کی بات ہے۔اسی طرح جو شخص خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں سے مانگتا ہے تو درحقیقت وہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبودیت کے دعوئی میں سچا نہیں ہے۔اگر کوئی شخص عبودیت کے دعوئی کے باوجود اور لوگوں کا دست نگر ہے تو یقیناً اُس کا ایمان کمزور ہے ور نہ اگر اس کا اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہوتا تو خدا تعالیٰ کے مل جانے کے بعد اس کو کسی اور کی حاجت ہی باقی نہ رہتی۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کا ہورہتا ہے تو پھر اس کو اس بات کی ضرورت باقی نہیں رہا جاتی کہ لوگ اس کی مدد کریں بلکہ خدا تعالیٰ خود اس کی مدد کرتا ہے اور یہ جو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آتا ہے کہ غریبوں اور مساکین کی امداد کرو یہ حکم تو ادنی ایمان والے لوگوں کیلئے فرمایا گیا ہے نہ کہ کامل ایمان والے لوگوں کیلئے۔اس حکم سے یہ تو مراد نہیں کہ اے لوگو ! تم نبی کریم ﷺ کی۔نوح علیہ السلام کی یا ابراہیم علیہ السلام کی مدد کرو۔کیونکہ انبیاء کی نصرت کا دار و مدارلوگوں پر نہیں ہوتا بلکہ خدا تعالیٰ خود ان کی پشت پر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا يَنصُرُكُ رِجَالٌ نُوْحِی إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ سے یعنی یہ سوال نہیں کہ کوئی تیری مدد کرتا ہے یا نہیں بلکہ ہم خود پکڑ پکڑ کر لوگوں سے تیری مدد کروائیں گے۔پس رحم اور امداد کا سوال تو ادنی درجہ کے لوگوں کیلئے ہے نہ کہ انبیاء اور کامل مومنوں کیلئے۔کیونکہ انبیاء اور کامل مومن تو سائل اور محروم کے ماتحت نہیں آتے اور مذکورہ حکم اُن دو کے لئے ہی ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ یہ حکم یا تو کافروں کیلئے ہے یا پھر ادنی مومنوں اور محروم لوگوں کیلئے۔کامل مؤمنوں کی فکر تو خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔ہاں جن لوگوں کا ایمان ہنوز کمال کے درجہ تک نہیں پہنچا ہوتا تو جس طرح غبارہ ہچکولے کھایا کرتا ہے اسی طرح وہ بھی ہچکولے کھاتے رہتے ہیں۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ وہ شہر سے دور کسی مقام پر عبادت کیا کرتے تھے اور ان