خطبات محمود (جلد 17) — Page 523
خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۶ وه مگر جیسا کہ میں نے بار ہا بتایا ہے کہ مؤمن کا کام پھر بھی ختم نہیں ہوسکتا جو سچا مؤمن ہو جس دن اس کا کام ختم ہو جاتا ہے اسی دن اس کی موت آجاتی ہے۔دیکھو رسول کریم ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ فَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ل کہ تیرا کام چونکہ دنیا میں اسلام پھیلانا ہے اس لئے جب اسلام میں جوق در جوق لوگ داخل ہونے لگیں اور فوج در فوج لوگ اسلام قبول کرنے کیلئے آئیں تو سمجھ لینا کہ تیرا وقت ختم ہو گیا اس وقت ذکر الہی میں مشغول ہو جانا اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنا۔جب رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو یہ آیت سنائی تو باقی صحابہ تو بڑے خوش ہوئے کہ اب فتوحات کا زمانہ آ گیا لیکن حضرت ابو بکر رو پڑے وہ نہایت کامل الایمان تھے وہ یہ آیت سنتے ہی سمجھ گئے کہ جب رسول کریم ﷺ کا کام ختم ہو گیا تو پھر آپ نے دنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے۔خدا تعالیٰ کا رسول نکما نہیں بیٹھتا۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ اب رسول کریم ﷺ کا زمانہ وفات نزدیک ہے۔اس پر حضرت ابو بکر کو اتنا رونا آیا کہ ان کی گھگی بندھ گئی۔بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض صحابہ آپ کے رونے کو سن کر کہہ اُٹھے کہ اس بڑھے کو کیا ہو گیا ہے کہ خدا تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ اسلام ترقی کرے گا اور جوق در جوق لوگ اس میں داخل ہوں گے اور یہ روتا ہے۔مگر رسول کریم ہے اس نکتہ کو سمجھ گئے یعنی آپ نے سمجھ لیا کہ حضرت ابو بکر نے آیت کا مفہوم سمجھ لیا ہے اس لئے آپ نے ان کی تسلی اور دلجوئی کیلئے فرمایا کہ ابو بکر مجھے اتنے پیارے ہیں اتنے پیارے ہیں کہ اگر کسی بندے کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو میں ابو بکر کو بنا تا لیکن یہ اسلام میں میرے بھائی ہیں۔پھر فرمایا مسجد میں جس قدر کھڑ کیاں کھلتی ہیں سب بند کر دی جائیں مگر ابو بکر کی کھڑ کی کھلی رہے۔اس میں آپ نے اس طرف اشارہ کر دیا کہ میرے بعد یہی امام ہوں گے اور انہیں چونکہ نماز پڑھانے کیلئے مسجد میں آنا پڑے گا اس لئے ضروری ہے کہ ان کی کھڑ کی مسجد کی طرف کھلی رہے۔تو مؤمن جب اپنا کام ختم کر لیتا ہے تو وہ بالکل دنیا میں رہنا نہیں چاہتا۔دیکھو! جب کوئی شخص اپنے بیوی بچوں سے جدا ہو کر غیر ملک میں جاتا ہے تو جب اس کا کام ختم ہو جاتا ہے وہ اپنے بیوی بچوں سے ملنے کیلئے بیتاب ہو جاتا ہے۔جب بیوی بچوں کی محبت اپنے اندر اتنی کشش رکھتی ہے کہ جب تک اُسے فرضِ منصبی رو کے رکھتا ہے وہ رکا رہتا ہے لیکن جب صلى الله