خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 522

خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۶ دے کر اسے قربان کرنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھتے وہ قربانیوں پر بجائے غمگین ہونے کے خوش ہوتے او ر قر بانیوں کوستاسو دا سمجھتے ہیں ایسے آدمی خدا تعالیٰ کی فضل سے ہماری جماعت میں کم نہیں ہزار ہا ہیں جو اسی قسم کا اخلاص اور اسی قسم کی محبت رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں عبد الحکیم نے جب اعتراض کیا کہ جماعت احمدیہ میں سوائے حضرت مولوی نورالدین صاحب اور ایک دو اور آدمیوں کے کوئی صحابہ کا نمونہ نہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے اس خیال کی نہایت سختی سے تردید کی اور فرمایا میری جماعت میں ہزاروں ہیں جو صحابہ کا نمونہ ہیں۔پس میرے لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور وہ خود ایسے آدمی کھڑے کرے گا جو سلسلہ کی مالی اور جانی خدمات سرانجام دیں گے لیکن میں نہیں چاہتا کہ ایک بھی ہم میں سے تباہ ہو اس لئے میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا رستہ لمبا اور تکلیفوں سے پر ہے جو لوگ کمزور ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اپنی کمزوری دور کر کے اپنے آپ کو مضبوط بنائیں۔اس راستہ میں مال کی قربانی بھی کرنی پڑے گی، جان کی قربانی بھی کرنی پڑے گی ،عزت کی قربانی بھی کرنی پڑے گی ، وطن کی قربانی بھی کرنی پڑے گی ، آرام و آسائش کی قربانی بھی کرنی پڑے گی اور اسی طرح کی اور بہت سی قربانیاں ہیں جو انہیں کرنی پڑیں گی۔تب خدا تعالیٰ کا نور دنیا میں پھیلے گا۔پس جو کمزور ہیں وہ میری تحریک کی اہمیت کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق عمل کریں ورنہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ یا تو ایک دن مرتد ہو کر انہیں جماعت سے الگ ہونا پڑے گا یا خود انہیں جماعت سے الگ کر دیا جائے گا۔قادیان کے کارکنوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہو جانا چاہئے کہ اگر سرمایہ کافی نہ ہوا تو گو پہلے ہی انہیں باہر کی نسبت قلیل تنخواہیں دی جاتی ہیں لیکن پھر بھی ان کی تنخواہوں میں کمی کی جائے گی اور جو کارکن اس کیلئے تیار نہ ہوں انہیں پہلے سے اپنی نوکریوں کا باہر انتظام کر لینا چاہئے۔پھر کارکنوں کے علاوہ جماعت کے جو عام افراد ہیں خواہ وہ قادیان میں رہتے ہوں یا باہر ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس امر کیلئے تیار رہیں اور اب انہیں ہر قدم پہلے سے آگے بڑھانا پڑے گا اور یہ کام ختم نہیں ہوگا جب تک اسلام کی حکومت دنیا میں قائم نہ ہو جائے۔اس سے پہلے ہمارے لئے کوئی ہالٹ اور کوئی ٹھہرنا اور کوئی آرام نہیں۔ہاں جب دنیا میں صحیح رنگ میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی تو ایک مرحلہ ہمارا ختم ہو جائے گا۔