خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 51

خطبات محمود ۵۱ سال ۱۹۳۶ء ہو وہ چھپ نہیں سکتا اور اُس کے رگ وریشہ سے اس کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔اسی طرح مومن کی بھی ظاہری شکلوں سے نہیں بلکہ اپنی حالت سے پہچانے جاتے ہیں ان کے اعمال خود بتا دیتے ہیں کہ ان کے دل میں درد ہے ورنہ منہ سے تو ہر شخص کہہ سکتا ہے لیکن جب درد پیدا ہو جائے تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھوڑے ہی عرصہ میں اس کے آثار چہرے پر نظر آنے لگتے ہیں۔پس مؤمن کی پہچان کیلئے زبانی دعووں کی ضرورت نہیں ہوتی زبانی دعوے تو منافق بھی کر سکتا ہے لیکن مؤمن کو حقیقت خود مشخص کر کے دکھا دیتی ہے۔دوسری بات میں آج یہ کہنی چاہتا ہوں کہ ہمارے مخالفوں نے اب ایک فتنہ کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے کہ وہ اخبار میں جھوٹی رپورٹیں شائع کرتے ہیں جو سر تا پا جھوٹی ہوتی ہیں اور جن میں سے ہزارواں حصہ بھی صحیح نہیں ہوتا۔اس سے ان کی غرض ہوتی ہے کہ جس شخص کے متعلق وہ خبر ہوگی اس کے متعلق خیال کر لیا جائے گا کہ اس میں کچھ نہ کچھ نقص تو ضرور ہوگا۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ چونکہ ہمارے دوست عام طور پر اس چال سے واقف نہیں ہیں وہ دھو کے میں آکر خیال کر لیتے ہیں کہ جس کے متعلق یہ بات کہی گئی ہے ضرور ہے کہ اس میں کچھ نہ کچھ نفاق ہو گا حالانکہ یہ رپورٹیں سر تا پا غلط ہوتی ہیں۔اوروں کا تو کیا کہنا ہے چند دن ہوئے خود میرے متعلق احرار کے ایک اخبار میں لکھا ہوا تھا کہ صدرانجمن احمدیہ کے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی اور پھر میاں بشیر احمد صاحب اس کی کارروائی لے کر میرے پاس آئے حالانکہ یہ واقعہ سرتا پا غلط تھا۔نہ کوئی ایسی میٹنگ ہوئی اور نہ میاں بشیر احمد صاحب اس کی کارروائی لے کر میرے پاس آئے۔تو یہ لوگ اس طرح کی بے سروپا باتیں لکھتے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے جماعت میں بے چینی پھیلانا چاہتے ہیں اور بھائی کو بھائی سے بدظن کرنا چاہتے ہیں۔ان میں سے بعض تو سرتا پا غلط ہوتی ہیں اور بعض میں ایک معمولی سی بات صحیح ہوتی ہے اور باقی جھوٹ ملا لیا جاتا ہے۔مثلاً یہ صحیح ہوا کہ زید اور بکر ایک جگہ ملے اور آگے یہ جھوٹ ملا دیا کہ انہوں نے فلاں کو گالیاں دیں۔ہمارے بعض دوستوں میں یہ مرض ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غیر کا اخبار پڑھنا ضروری ہے حالانکہ جنہوں نے نگرانی کرنی ہے یا جواب دینا ہے انہوں نے تو پڑھنا ہی ہے باقیوں کو کیا ضرورت ہے کہ وہ گالیوں کو پڑھیں۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ لاہور میں آریوں کا ایک جلسہ تھا جس میں جماعت احمد