خطبات محمود (جلد 17) — Page 52
خطبات محمود ۵۲ سال ۱۹۳۶ء کا ایک وفد شامل ہو ا جس کے امیر حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل تھے۔اس جلسہ میں آریوں نے رسول کریم کو بہت گالیاں دیں اور ہمارے دوست وہاں بیٹھے رہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سخت ناراض ہوئے کہ آپ لوگ وہاں کیوں بیٹھے رہے ؟ پس جن کیلئے مجبوری ہے مثلاً ایڈیٹر ہوئے یا نیشنل لیگ کے افسر یا دعوت وتبلیغ والے ان کا تو کام ہے دوسرا اگر پڑھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دل میں گالیوں کو پڑھ کر درد نہیں ہوتا اور نہ کون ہے جو خود اپنے آپ کو منجر مارے۔ان باتوں کے پڑھنے سے بعض دفعہ آپس میں بدظنیاں شروع ہو جاتی ہیں۔کچھ عرصہ ہوا بعض منافقوں نے یہ کام شروع کیا تھا کہ بعض لوگ لگا دیئے جو روزانہ مجھے رپورٹیں بھیجتے تھے کہ میاں بشیر احمد صاحب فلاں جگہ یہ کہہ رہے تھے ، خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب یہ شکوہ کرتے تھے ، چوہدری فتح محمد صاحب یہ شکایت بیان کرتے تھے اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ میں ان سب سے بدگمان ہو جاؤں۔مگر جب یہ کرتے کرتے تھک گئے اور دیکھ لیا کہ میں ان رپورٹوں پر کسی کو بھی منافق نہیں سمجھتا تو اب یہ طریق اختیار کیا ہے کہ جماعت کے لوگوں کو آپس میں لڑا ئیں اور مخلصین کے دلوں میں شک پیدا ہو کہ فلاں آدمی ایسا ہے اور فلاں ایسا ہے اور خیال کر لیں کہ اس میں سے کچھ تو ضرور سچ ہو گا حالانکہ یہ سب باتیں جھوٹی ہوتی ہیں۔پس اول تو مجھے سمجھ ہی نہیں آتی کہ دوستوں کو گالیاں پڑھنے کا کیا شوق ہے اور پھر جو پڑھیں ان کو بدظنی کی کی ضرورت نہیں۔تیسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ میں نے جو ایک گزشتہ خطبہ میں کہا تھا کہ بعض حکام کا رویہ ہمارے متعلق اچھا نہیں اور اطمینان بخش نہیں اس سے ہر گز دفعہ ۱۴۴ کا منسوخ ہونا مراد نہ تھا۔بعض دوست جب ایک طرف یہ سنتے ہیں اور دوسری طرف یہ کہ حکومت نے دفعہ ۱۴۴ وا پس لے لی تو وہ دونوں باتوں کو ملا کر سمجھ لیتے ہیں کہ میں نے جو کہا تھا وہ بھی شاید اسی کے متعلق ہے حالانکہ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ اور بناء پر کہا تھا احرار کا یہ پروپیگنڈا بالکل غلط ہے۔دفعہ ۱۴۴ کہیں بھی ساری عمر کیلئے نہیں لگائی جاتی یہ تو ہوتی ہی دو ماہ کیلئے ہے۔اور اس کے اختتام پر یہ شور مچانا کہ حکومت کو شکست ہوگئی ہے اور ہماری فتح ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی ڈاکٹر کسی شخص سے کہے کہ تم مریض ہو ہسپتال میں داخل ہو جاؤ اور پھر اس کے صحت یاب ہونے پر اُسے ڈسچارج کر دے تو