خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 475

خطبات محمود ۴۷۵ سال ۱۹۳۶ کے جوش میں کی ورنہ یہ دعا تھی بہت خطرناک۔اس کے معنے یہ بنتے تھے کہ کوئی اتنا ز بر دست غنیم ہو کہ جو تمام اسلامی ممالک کو فتح کرتا ہو امدینہ پہنچ جائے اور پھر وہاں آکر آپ کو شہید کرے لیکن اس اللہ تعالیٰ جو دلوں کا حال جانتا ہے اس نے حضرت عمر کی اس خواہش کو بھی پورا کر دیا اور مدینہ کو بھی ان آفات سے بچالیا جو بظاہر اس دعا کے پیچھے مخفی تھیں اور وہ اس طرح کہ اس نے مدینہ میں ہی ایک کافر کے ہاتھ سے آپ کو شہید کروا دیا۔بہر حال حضرت عمر کی دعا سے یہ پتہ لگ جاتا ہے کہ ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کے قرب کی یہی نشانی تھی کہ اپنی جان کو اس کی راہ میں قربان کرنے کا موقع مل سکے لیکن آج مخرب کی یہ نشانی سمجھی جاتی ہے کہ خدا بندہ کی جان بچالے۔حضرت خالد کی ہستی ایسی نہیں کہ کوئی مسلمان آپ کے نام سے ناواقف ہو۔آپ کا نام کفار میں بھی اسی طرح مشہور ہے جس طرح مسلمانوں میں۔آپ کا نام مسلمان اگر عزت سے لیتے ہیں تو غیر مسلم دہشت سے۔وہ شخص موت اور مصائب کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا تھا۔اس کی بہادری کا معیار اتنا بلند تھا کہ بعض واقعات پڑھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی تاریخی واقعہ نہیں بلکہ الف لیلہ کا کوئی قصہ ہے۔کفار کا لشکر لاکھوں کی تعداد میں آتا ہے، اسلامی لشکر کے بعض افسر مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں پیچھے ہٹ جانا چاہئے ، بعض کہتے ہیں کہ لڑنا چاہئے لیکن جب خالد سے مشورہ لیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ سارے اسلامی لشکر کو لڑانے کا کیا فائدہ مجھے دو سو آدمی دے دیا جائے میں انشاء الله اسے شکست دے دوں گا اور آپ نے عملاً ساٹھ ہزار کفار کا مقابلہ صرف ساٹھ مسلمان سپاہیوں سے کیا ہے اور نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ انہیں شکست دی اور ان کے کمانڈر کو قتل کر دیا۔اب دیکھو یہ شخص اپنی قربانیوں کا کیا اندازہ لگاتا ہے۔وہ تمہاری طرح یہ نہیں کہتا کہ فلاں موقع پر میں نے آٹھ آنہ چندہ دیا تھا اور فلاں موقع پر پچاس یا سو یا ہزار دیا تھا بلکہ اس کے برخلاف لکھا ہے کہ جب آپ مرض الموت میں مبتلاء تھے تو ان کے ایک دوست ان کے پاس عیادت کیلئے گئے۔ان کا بیان ہے کہ حضرت خالد مجھے دیکھ کر رو پڑے۔میں نے کہا کہ خالد تم کیوں روتے ہو؟ موت تو آخر سب کو آنی ہے تم کو اسلام کی جو خدمات کرنے کا موقع ملا ہے ان کی وجہ سے تمہیں خوش ہونا چاہئے کہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہو اور اس کے انعامات سے حصہ پانے والے ہو۔ان کے دوست کا بیان ہے کہ میری یہ بات سن کر آپ اور بھی بیتاب ہوکر رونے لگے اور کہا میرے