خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 466

خطبات محمود ۴۶۶ سال ۱۹۳۶ باوجود اس کے کہ وہ خدا کے رسول کی زبان تھی آپ نے مادیات کو مادیات قرار دے کر فر مایا کہ تم ان باتوں کو زیادہ جانتے ہو مگر آجکل کے مولوی تو ایسا کرتے ہیں کہ خواہ اُن کے منہ سے انہونی کی بات بھی نکلے اس کے نہ ماننے سے اسلام کے دائرہ سے خارج اور کافر و مرتد ہونے کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔دوسری طرف مغربی گروہ ہے اسکے نزدیک مذہب پر نہ ایمان لانا ضروری ہے، نہ ان کے نزدیک آپ کی تعلیم کی عزت ہے، نہ اخلاق کی حرمت، وہ ہر شے کو مادی قرار دیتے ہیں یہاں تک کہ اُن کے فلاسفروں نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ خدا نے دنیا کو کس طرح پیدا کیا بلکہ یہ ہے کہ انسان نے خدا کو کس طرح پیدا کیا۔ان کے نزدیک خدا کا سوال انسانی ارتقاء کا نتیجہ ہے اور یہ کہ بے شک خدا کا وجود ایک حقیقت ہے لیکن دماغی ترقی کی وہ انتہائی کڑی ہے اور کچھ نہیں۔ان کے نزدیک انسان نے اپنے لئے ایک اچھا نمونہ تلاش کرنا چاہا جب وہ انسانوں میں ایک عمدہ نمونہ تلاش نہ کر سکے تو انہوں نے انسانوں سے باہر ایک ذہنی نقشہ تیار کیا۔پہلی کوشش انسان کی ایسی کامیاب نہ تھی مگر جوں جوں وہ زیادہ غور کرتا گیا زیادہ ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ اس نے ایک کامل نقشہ تیار کر لیا اُس کا نام خدا ہے اور ہر انسان کا فرض ہے کہ اس کا حکم مانے یعنی اس کی نقل کرنے کی کوشش کرے بغیر اس کی نقل اُتارنے کے انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بھی خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں مگر اس کی لئے نہیں کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے بلکہ اس لئے کہ انسان نے آخر ایک کامل وجود کو دریافت کر لیا۔غرض ان لوگوں نے خدا کو بھی مادیات کا حصہ قرار دے لیا ہے اور دوسری طرف ہندوستان کی کے مولویوں نے ہر ایک ھے حتی کہ اخبار ، سوسائٹی اور جلسہ کو بھی مذہب کا حصہ ٹھہرا لیا ہے۔لیکن اس کی طریق سے نہ دنیا کی اصلاح ہو سکتی ہے نہ مذہب کی۔جس گروہ نے مادیات کو روحانیات کے تابع کیا وہ کہتا ہے کہ نماز پڑھنے سے دنیا حاصل ہو جاتی ہے۔دوسرا فریق کہتا ہے کہ دنیا میں کمانا، کھانا کھلا نا خدا کے حصول کا موجب ہیں۔یہ دین کو خیالی نقطہ سے حاصل کرنا چاہتا ہے اور وہ دنیا کے پیچھے تمام روحانیات کو قربان کرنا چاہتا ہے۔پس یہ دونوں دھو کا خوردہ اور دھوکا دینے والے ہیں اصل حقیقت رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ یہ دونوں الگ الگ ہیں اور دونوں ضروری