خطبات محمود (جلد 17) — Page 465
خطبات محمود آستانہ پرگرے۔۴۶۵ سال ۱۹۳۶ دوسری چیز اخلاق میں ہم دیکھتے ہیں تو آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایسے باریک در بار یک اخلاقی پہلو معلوم ہوتے ہیں کہ بار یک نگاہ والے بھی دیکھ نہیں سکتے۔مثلاً بیویوں کے معاملہ میں ہی آپ کے متعلق آتا ہے کہ جب کوئی آپ کی بیوی پانی پیتی آپ اُسی جگہ منہ لگا کر پانی پیتے جہاں سے اس نے پیا ہوتا ہے۔یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر کیسا باریک نکتہ ہے کہ انسانی محبت بڑے بڑے معاملات سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔اخلاق کے بڑے معاملات میں بھی آپ نے ایسی تعلیم دی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے یہ شخص ساری عمر اخلاقیات کا مطالعہ کرتا رہا ہے بنی نوع انسان کے باہمی تعلقات، رشتہ داروں کے باہمی تعلقات ، انسان کے ذاتی کیریکٹر کی تفصیلات ، جھوٹ ، خیانت، بدگمانی سے پر ہیز تمام امور نظر آتے ہیں اور کوئی ایسی بات نہیں جس کا ذکر نہ آیا ہو بلکہ ذات میں ایسا کامل نمونہ دکھایا ہے کہ اگر کسی شخص کو بیسیوں زندگیاں عطا ہوں تب بھی اس کمال کو نہیں پہنچ سکتا۔تیسری چیز مادیات ہیں ان کے لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں تو رسول کریم ﷺ کی زندگی میں مادیات میں اصلاح کی تعلیم بھی معلوم ہوتی ہے ،سڑکوں کو کھلا کرو، پانی کی صفائی رکھو، راستہ کی صفائی کرو، مکان کشادہ بناؤ وغیرہ احکام سے آپ کی تعلیم پُر ہے۔پس مادیات کے لحاظ سے بھی آپ کی تعلیم ایسی مکمل ہے کہ حیرت آجاتی ہے۔تمام ضروری ماڈی چیز میں خواہ وہ سیاست سے تعلق رکھتی ہوں یا تمدن سے تعلق رکھتی ہوں یا تجارت سے یا صنعت سے متعلق ہوں ہر ایک شے کو رسول کریم ﷺ نے اپنی اپنی جگہ پر بیان فرمایا ہے لیکن باوجود اس کے رسول کریم ﷺ نے اس زمانہ کے لوگوں کی طرح یہ نہیں کیا کہ دنیا کی ہر ھے کو مذہب کا حصہ قرار دے دیا ہو۔مثلاً آپ کے متعلق واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ کچھ لوگ کھیتی باڑی کی کر رہے تھے آپ پاس سے گزرے تو وہ کر اور مادہ پودوں کو ملا رہے تھے آپ نے فرمایا کیا حرج ہے اگر نہ لگاؤ۔لوگوں نے لگانے چھوڑ دیئے تو دوسرے سال پھل بہت کم آیا آپ نے ان درختوں صلى الله کو دیکھ کر دریافت فرمایا تو لوگوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! آپ ہی نے فرمایا تھا۔رسول اللہ ہے نے فرمایا میں نے حکم نہیں دیا تھا آپ لوگ اپنی دنیاوی باتوں کو مجھ سے اچھا جانتے ہو سکے۔اب گوب رسول اللہ ﷺ نے مادیات کو مذہب سے جدا کر دیا۔وہ زبان بھی خدا کے رسول کی زبان تھی مگر