خطبات محمود (جلد 17) — Page 464
خطبات محمود ۴۶۴ سال ۱۹۳۶ کر چکا ہوتا ہے اور چونکہ ان میں آپس میں کامل مشابہت ہے اس لئے امتیاز مشکل ہے۔اسی امتیاز کے نہ کرنے کی وجہ سے دو گروہ پیدا ہو گئے ہیں ایک ہر ھے کو مادیات کے تابع کرتا ہے اور دوسرا ہر ٹھے کو روحانیات کے۔مگر باریک نظروں والا ان دونوں گروہوں کو غلطی پر قرار دے گا۔اوپر سے نیچے آنے والے نے فرق کو دیکھا نہیں اس نے غلطی کی اور نیچے سے اوپر جانے والے نے تفاوت کی طرف نگاہ نہ اُٹھائی اُس نے بھی غلطی کی لیکن رسول کریم ﷺ کی زندگی میں دونوں پہلو نظر آ۔ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ دنیا کے ماڈی مصلح بھی ہیں، اخلاقی مصلح بھی ہیں اور روحانی مصلح بھی ہیں اور آپ کی حیات طیبہ تمام کی جامع نظر آتی ہے۔اگر ایک طرف آپ تعلیم دیتے ہیں کہ الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ لے تو دوسری طرف روحانیت کی تکمیل کے متعلق زور دیتے ہیں۔دعا کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایسا ہے جیسے بچے اور ماں کا تعلق۔دعا کے معنے پکارنے کے ہیں۔پکارنے والا تب پکارتا ہے جب اسے یقین ہو کہ کوئی میری مدد کرے گا کیونکہ کون اپنے دشمن کو مدد کیلئے پکارتا ہے؟ کہ مجھے آکر بچاؤ بلکہ انسان ایسے وقت میں خاموش رہتا ہے تا کہ کوئی اس پر ہنسے نہیں۔دعا میں تین چیزیں پائی جاتی ہیں اول یہ کہ اپنے دل میں یقین کرے کہ میری بات قبول کی جائے گی ، دوسرے یہ اعتما د ر کھے کہ جس کو میں پکارتا ہوں اس میں میری مدد کرنے کی طاقت ہے، تیسرے ایک فطری لگاؤ جو انسان کو باقی ہر قسم کے لگاؤ سے پھیر کر اُسی کی طرف لے جاتا ہے۔پہلے دو تو عقلی نکتے ہیں۔تیسری فطرتی محبت ہے جو دوسری طرف سے اس کی آنکھ کو بند کر کے محبوب کی طرف لے جاتی ہے۔بچہ اور ماں کی مثال کو دیکھ لو بچہ کا ماں سے فطرتی تعلق ہوتا ہے قطع نظر اس سے کہ ماں اس کی مدد کر سکے یا نہ کر سکے وہ اسے پکارتا ہے۔ایک سمندر میں ڈوبنے والا بچہ با وجود یہ جاننے کے کہ میری ماں تیرنا نہیں جانتی پھر بھی اپنی ماں کو آواز دیتا ہے کہ مجھے بچاؤ کسی دوسرے کو آواز نہیں دیتا کہ کوئی مجھے بچائے بلکہ بے اختیار اپنی ماں کو پکارتا ہے یہ جذباتی تعلق ہے جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ بغیر دعا کے انسان کے ایمان کو کامل نہیں کیا جاسکتا۔پس آنحضرت ﷺ نے بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان تعلق کو ماں اور بچہ کا سا تعلق قرار دیا ہے کہ دنیا سے آنکھ بند کر کے اسی کی طرف بھاگے جب کبھی دکھ پہنچے تو بھاگ کر اسی کے