خطبات محمود (جلد 17) — Page 431
خطبات محمود ۴۳۱ سال ۱۹۳۶ گھر سے آتا اور شام کو گھر کو چلا جاتا۔دھوبی نے اُس کی دُم پکڑ لی اور پیچھے پیچھے یہ کہتا ہوا کہ چھوڑو بھی یار تم مجھے یونہی زبردستی گھر لے جا رہے ہو میں نہیں جانا چاہتا گھر آ گیا۔تو جب کوئی قوم ایسے مقام پر کھڑی ہو جائے کہ دوسرے اس کی نقل کرنے لگیں تو پھر ڈر اور خوف جاتا رہتا ہے۔لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ قوم صبح شام ، دن رات بڑھتی ہی جاتی ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی ممکن ہے اس کی مخالفت سے ہم پر کوئی عذاب آئے اور وہ اُس کے ساتھ ملنے کیلئے بہانے کی تلاش میں لگ جاتے ہیں۔اور جب کوئی جا کر تبلیغ کرتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس طرح تو آج تک ہمیں کسی نے سمجھایا ہی نہ تھا اور جھٹ ایمان لے آتے ہیں۔تو نقل دونوں طرح کام کرتی ہے مگر یہ مقام حاصل کرنے کیلئے ایک حد تک طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔جب تک اس خاص معیار پر کوئی قوم نہ پہنچ چ جائے لوگ اس کی نقل نہیں کرتے۔پس ماننا پڑے گا کہ نقل میں بھی فائدے ہیں اور خدا نے اسے بے وجہ پیدا نہیں کیا اور فائدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کی اشاعت میں بھی اس سے مدد لیتا ہے۔داخل ہونے کے بعد منوانا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ داخل ہونے کے بعد انسان حکومت کے اندر آجاتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ سہولت پیدا کس طرح ہوتی ہے تا اسے حاصل کیا جا سکے۔لوگ آج عقائد کے بارہ میں ہماری نقل کر رہے ہیں، آج لوگ اگر چہ یہ نہیں جانتے کہ وفات مسیح سے اسلام کے کیا فوائد وابستہ ہیں مگر وہ اُسے مانتے ہیں، سارے قرآن کو محفوظ سمجھنے کے فوائد وہ نہیں جانتے مگر یہ عقیدہ ان کا ہو گیا ہے، الہام کے جاری ہونے کی پوری حکمت وہ نہیں سمجھتے مگر عیسائیوں کی اور آریوں سے مقابلہ کے وقت وہ اسلام کی فضیلت کے طور پر اُسے پیش کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں جانتے کہ صفات الہیہ کے کمال کا اقتضاء یہ ہے کہ سب قوموں میں نبیوں کی آمد تسلیم کی جائے مگر دوسروں کے سامنے وہ یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے، لیکن ابھی ہمارے اعمال کی لوگوں نے نقل شروع نہیں کی اور میں نے پچھلے بعض خطبات میں بتایا تھا کہ اس رستہ میں ہمارے لئے کچھ دقتیں ہیں اور یہ بھی بتایا تھا کہ جب قوتِ ارادی یکساں ہے تو یہ امتیاز کیونکر پیدا ہوا ہے۔میرے اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے قوت متاثرہ کی کمزوری اور اس کے معاونین کا نقص ہے۔ایک چاقو سے ہم سنگترہ کاٹ سکتے ہیں مگر لوہے کی سلاخ نہیں کاٹ سکتے ، ریتی سے لوہے کو چھیل سکتے ہیں مگر ہیرے کو نہیں کیونکہ وہ زیادہ سخت ہوتا ہے۔پس معلوم ہوا کہ اعمال