خطبات محمود (جلد 17) — Page 380
خطبات محمود ۳۸۰ سال ۱۹۳۶ء ہو جاتی ہے۔جب تک اس کی خدا تعالیٰ سے محبت ایسے مقام پر نہ پہنچ جائے کہ اس محبت کی شدت کے مقابلہ میں بیوی بچوں کی محبت اور ان کا اصرار اور ان کی وہ شکلیں جو اسے اپیل کرتی ہیں دھندلی ہو جائیں اور وہ ان کے اثر سے آزاد ہو جائے اُس وقت تک عمل کی اصلاح بہت مشکل ہوتی ہے۔یا پھر اصلاح کی دوسری صورت یہ ہے کہ دنیا کا نظام ایسا تبدیل ہو جائے کہ اسے بددیانتی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور جو اس کی مشکلات ہوں وہ آپ ہی آپ دور ہو جائیں۔اگر جو لوگ فاقے مررہے ہوں انہیں کھانے کیلئے روٹیاں ملنے لگیں، جو ننگے پھر رہے ہوں انہیں پہننے کیلئے کپڑے مل جائیں اور جو غریب ہوں ان کی غربت دور ہو جائے تب بھی نیک اعمال میں بہت کچھ مددمل سکتی ہے لیکن جب یہ دونوں باتیں نہ ہوں نہ ان کی ضرورتیں پوری ہوں اور نہ خدا تعالیٰ کی محبت ایسے مقام پر پہنچی ہوئی ہو کہ وہ باقی محبتوں کو مٹادے اُس وقت تک یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ اعمال کی اصلاح ہو سکے۔یہ دونوں چیزیں ہیں جو اصلاح کیا کرتی ہیں اور ان دونوں کا ایک وقت میں موجود ہونا اصلاح کیلئے ضروری ہوتا ہے تا کہ کامل اور ناقص ہر ایک کی اصلاح ہو سکے لیکن اگر یہ دونوں ایک وقت میں میسر نہ ہوں تو کم سے کم ایک چیز کا پیدا کرنا دنیا کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔یا تو ہمیں انسانوں کے قلوب میں خدا تعالیٰ کی محبت ایسے مقام پر لانی ہوگی کہ اس محبت کے مقابلہ میں انہیں دنیا کی تمام محبتیں بھول جائیں اور یا پھر ہمیں ان کی تکالیف دور کرنی اور ان کی ضروریات پوری کرنی پڑیں گی تا کہ جس حد تک بددیانتی مجبوری سے پیدا ہوتی ہے اس کا ازالہ ہو جائے۔چھٹا سبب جو اعمال کی اصلاح عقیدہ کی اصلاح کی نسبت زیادہ مشکل بنا دیتا ہے یہ ہے کہ عقیدہ کا خیال ہر وقت نہیں رکھنا پڑتا لیکن عمل کا خیال ہر وقت رکھنا پڑتا ہے۔مثلاً جب ایک انسان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خدا ایک ہے تو ایک دفعہ یہ عقیدہ رکھ لینے کے بعد کہ خدا ایک۔کیلئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ ہر دو گھنٹے کے بعد دُہرائے اور کہے کہ خدا ایک ہے۔ظہر کے وقت پھر کہے کہ خدا ایک ہے، عصر کے وقت پھر کہے کہ خدا ایک ہے مگر عمل کے بارہ میں بار بار توجہ کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔مثلاً ایک دکاندار ہے اسے ہم نے کہہ دیا کہ دیانت سے کام کرنا۔یہ کہنے کو ایک بات کہی گئی ہے مگر اس میں اور یہ عقیدہ رکھنے میں کہ خدا ایک ہے بہت بڑا فرق ہے۔