خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 377

خطبات محمود ۳۷۷ سال ۱۹۳۶ء در حقیقت عملی اختلاف ہی انسانی طبائع میں اشتعال پیدا کیا کرتا ہے مگر اس کے علاوہ عمل کئی اور راہوں سے بھی انسان پر اثر ڈالتا ہے۔مثلاً ایک شخص اسلام کی یہ تعلیم سنتا ہے کہ خدا ایک ہے اور وہ یہ بھی سنتا ہے کہ کسی کا مال نہیں کھانا چاہئے۔اب جب وہ کہتا ہے کہ خدا ایک ہے تو اس عقیدہ کی وجہ سے اُس کی بیوی کو فاقے نہیں کرنے پڑتے اور نہ اُس کے بچے کو کوئی نقصان پہنچتا ہے لیکن جب اسلام کی یہ تعلیم اس کے سامنے آتی ہے کہ کسی کا مال نہیں کھانا چاہئے تو فرض کرو کسی نے اس کے پاس سو روپیہ امانت کے طور پر رکھا ہوا ہوتا ہے لیکن کوئی گواہ نہیں ہوتا اب وہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں یہ روپیہ لے لوں تو میرا بچہ جو بیمار ہے اس کے علاج پر یہ روپیہ صرف کر دوں گا۔آخر حکیم بغیر فیس کے نہیں آتا نہ دُکاندار بغیر قیمت کے دوائیں دیتا ہے پھر اُس کی بیماری کا علاج ہو تو کس طرح؟ پس ایسے موقع پر اس کے اور اسلام کی تعلیم کے درمیان اس کے بچے کی صحت آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔وہ اگر اسلام کی امانت کے متعلق تعلیم کو مانتا ہے تو اُس کا بچہ مرجاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو اگر وہ ایک مانتا ہے یا بالکل ہی خدا تعالیٰ کے وجود کو نہیں مانتا تو اس سے اس کے بچے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔یا مثلاً میں نے زمینداروں کے متعلق بتایا تھا کہ وہ اپنی لڑکیوں کو ورثہ نہیں دیتے وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح جائداد غیر کے پاس چلی جائے گی اور ان کی خاندانی عزت اور وجاہت کم ہو جائے گی۔پس چونکہ اس تعلیم پر عمل کرنے سے ایک زمیندار یہ دیکھتا ہے کہ اُس کی عزت جاتی رہے گی اس لئے عزت کا خیال عمل کے راستہ میں روک بن کر کھڑا ہو جائے گا لیکن خدا تعالیٰ کو ایک مان کر تو اُس کی عزت برباد نہیں ہوتی۔یا جب وہ کہتا ہے محمد یہ خدا کے رسول ہیں تو اس سے اُس کی اقتصادی حالت پر اثر نہیں پڑتا۔یا اگر وہ یہ کہتا ہے کہ خدا ایک ہے تو اُس سے اُس کی زمین کم نہیں ہوتی۔یہ نہیں ہوگا کہ اگر اُس کا ایک ایکڑ پہلے 9 کنال کا ہوا کرتا تھا تو خدا تعالیٰ کو ایک مان کر چھ کنال کا ایکڑ رہ جائے گا لیکن جب وہ یہ کہتا ہے کہ شریعت کے مطابق ورثہ دینا چاہئے اور اُس کا لڑکا لڑکی ہو تو اس کی جائداد کا تیسرا حصہ اسی وقت کم ہو جاتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کو ایک ماننے میں اسے نقصان نظر نہیں آتا لیکن ورثہ کی تعلیم پر عمل کرنے میں فوراً نقصان کی نظر آنے لگتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر میں نے اس پر عمل کیا تو میری جائداد کا تیسرا حصہ غیر کے پاس چلا جائے گا پھر نامعلوم اس کا میرے ساتھ کیسا تعلق ہو وہ میرا شریک بن کر مجھے نقصان پہنچائے گا