خطبات محمود (جلد 17) — Page 375
۳۷۵ سال ۱۹۳۶ خطبات محمود اپنے اعمال کا وہ نمونہ دکھا سکیں کہ جس کے بعد کوئی شخص ہماری جماعت کی برتری اور فوقیت کو تسلیم کرنے سے انکار نہ کرے۔پھر یہی نہیں کہ ابھی تک ہماری جماعت کے لوگ اس تعلیم پر پورے طور پر عامل نہیں جو عملی اصلاح کے متعلق اسلام نے پیش کی بلکہ بسا اوقات وہ دوسروں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نقل کرنے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اپنا لوہا لوگوں سے منوائیں لوگوں کے نقال بن جاتے ہیں اس وجہ سے بجائے اس کے کہ جماعت کی برتری اور فوقیت ثابت ہولوگ محسوس کرتے ہیں کہ عملی طور پر دنیا کی اصلاح کرنے میں احمدیت ناکام رہی ہے۔یہ سوال ایسا ہے جسے ہم کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے۔اگر ہم اس اعتراض کو دو ودور پر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور اگر ہم وہ عملی اصلاح نہ کر سکیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ہمارے لئے مقرر کی گئی اور ہماری قسمت میں لکھی گئی ہے تو ہم قطعی طور پر کسی کامیابی اور کامرانی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔میں پچھلے دو خطبوں سے یہ مضمون بیان کرتا چلا آرہا ہوں کہ لوگوں کی اعتقادی اصلاح سے عملی اصلاح کیوں مشکل ہے۔میں اس بارہ میں چار مشکلات بیان کر چکا ہوں جن کی وجہ سے عملی اصلاح زیادہ مشکل ہوتی ہے یہ نسبت اعتقادی اصلاح کے۔آج میں اس امر کے چند اور سبب بیان کرتا ہوں کہ کیوں اعتقادی اصلاح کی نسبت عملی اصلاح ایسے زمانوں میں زیادہ مشکل ہوتی ہے جب مذہب کے ساتھ حکومت نہیں ہوتی۔پانچواں سبب اس مشکل کا یہ ہے کہ عقیدے کے راستے میں انسان کے بیوی بچے حائل نہیں ہوتے لیکن عمل کے راستہ میں اس کے بیوی بچے حائل ہو جاتے ہیں۔جب ایک انسان کہتا ہے خدا ایک ہے تو یہ کہنے کے ساتھ اُسے اپنے بیوی بچوں کے آرام کو قربان نہیں کرنا پڑتا۔یا جب کوئی کہتا ہے محمد ﷺنے خدا کے رسول ہیں تو اس اعلان کے ساتھ اُسے اپنے بیوی بچوں کی کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔یا جب وہ کہتا ہے کہ میں قیامت پر ایمان لے آیا تو یہ دعوی اس کی اس کی ذمہ داری میں جو اس پر اپنے بیوی بچوں کے متعلق ہوتی ہے خلل نہیں ڈالتا۔اسی طرح جب کوئی ملائکہ پر ایمان لاتا ہے، استجابت دعا پر ایمان لاتا ہے ، جزاء وسزا پر ایمان لاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر پر ایمان لاتا ہے تو اسے اپنی اہلی ذمہ داری کے پورا کرنے میں کوئی روک محسوس نہیں ہوتی اور نہ یہ عقائد اس کیلئے کسی فتنہ کا موجب بنتے ہیں سوائے اس صورت میں کہ بیوی بچے اس کی