خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 374

خطبات محمود ۳۷۴ سال ۱۹۳۶ء کے عورتوں پر کیا حقوق ہیں اور شادی کے متعلق اسلام نے کیا کیا شرائط رکھی ہیں۔پس میں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اسلامی تعلیم میں اس قسم کی مشکلات کے مقابلہ میں کامل راہنمائی موجود ہے۔ایسی کامل راہنمائی کہ ہر مذہب و ملت کے لوگ اسے اپنے اور اپنی نسلوں کے فائدہ کی کیلئے اختیار کر سکتے ہیں اور اس بارے میں میں ہمیشہ ہی جماعت کے لوگوں سے خطاب کر کے کہ وہی ہیں جنہیں حق کے طور پر میں خطاب کر سکتا ہوں گو فائدہ ان سے سارے ہی اُٹھا سکتے ہیں اور اُٹھاتے رہتے ہیں ) یہ باتیں سمجھا تا رہتا ہوں لیکن اس میں شبہ نہیں جماعت احمد یہ ابھی پورے طور پر اس تعلیم پر عامل نہیں۔ابھی تک ایسی مثالیں میرے سامنے آتی رہتی ہیں کہ ماں باپ نے لڑکیوں کی مرضی کے خلاف یا لڑکوں کی مرضی کے خلاف انہیں شادی کرنے پر مجبور کیا اور اس کے نتیجہ میں وہ ساری عمر کیلئے جہنم میں پڑے رہے۔پس میں سمجھتا ہوں اس قسم کے مضامین بیان کرنے کی ضرورت ابھی مفقود نہیں ہوئی اور چونکہ اب خطبہ نمبر کی کثرتِ اشاعت کا خاص طور پر انتظام کیا جاتا ہے اس لئے میں کسی موقع پر جمعہ کے خطبہ میں ہی انشَاءَ اللہ اس امر کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں گا۔فی الحال چونکہ میں نے ایک اور مضمون شروع کر رکھا ہے اور اس کا پہلے ختم کرنا میرے لئے ضروری ہے اس لئے اس سلسلہ کے ختم ہونے پر میں اس مضمون کو خطبہ جمعہ میں بیان کروں گا کیونکہ گو اس مضمون کے بیان کرنے کیلئے مجھے دوسرے مواقع بھی میسر آسکتے ہیں اور گو پہلے بھی میں اس امر کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کر چکا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں ابھی اس مضمون کو بیان کرنے کی ضرورت ہے اور ضرورت رہے گی اور میں اِنشَاءَ اللہ اس کا خیال رکھوں گا۔اس کے بعد میں اُس مضمون کو لیتا ہوں جس کو میں نے پچھلے کئی جمعوں سے شروع کر رکھا ہے۔وہ مضمون یہ ہے کہ جماعت احمد یہ جہاں عقائد کے بارہ میں ایک عظیم الشان فتح حاصل کر چکی ہے یہاں تک کہ وہی عقائد جن کو جماعت احمدیہ کی طرف سے جب پیش کیا جاتا تو دشمنوں کی طرف سے ان کا سختی سے انکار کیا جاتا آج جماعت کے شدید ترین دشمن بھی ان عقائد پر قائم ہور ہے ہیں اور انہیں اپنا ہی عقیدہ قرار دے رہے ہیں وہاں عمل کے بارہ میں ہمیں بہت کچھ کو تا ہی نظر آتی ہے اور ابھی ہمارے اندروہ روح پیدا نہیں ہوئی جس روح کے ماتحت کام کر کے ہم دنیا کو