خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 348

خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۳۶ء پڑھی لی ہے۔بچہ جانتا ہے کہ اس نے نماز نہیں پڑھی کیونکہ وہ ہر وقت ساتھ رہتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ بھی کہتا ہے جب مجھ سے کوئی پوچھے گا نماز پڑھی تو میں کہہ دوں گا میں نے پڑھ لی ہے۔چنانچہ بڑے ہونے پر جب باپ گھر میں آتا اور اپنے بچہ سے دریافت کرتا ہے کہ نماز پڑھی؟ تو وہ نہایت دلیری سے کہہ دیتا ہے ابا جان میں نے نماز پڑھ لی ہے۔یا بچہ اپنے ہمسایہ میں سے کسی کو جھوٹ بولتے دیکھتا یا چوری کرتے دیکھتا ہے تو اُس کو بھی ان افعال میں لذت آنی شروع کی ہو جاتی ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ یہ چیز اچھی ہے یا بُری، مزیدار ہے یا غیر مزیدار، وہ صرف نقل کرنی جانتا ہے۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بچے روتے ہیں اور ان کے رونے کا بظاہر کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا لیکن جب کرید کرید کر بات دریافت کی جائے تو کسی ایسی بات پر وہ رو ر ہے ہوتے ہیں جس میں محض دوسرے کی نقل کا شوق کارفرما ہوتا ہے۔میری ایک بھانجی کا ہی ایک واقعہ ہے وہ چھوٹی سی تھی کہ ایک دن اس نے رونا شروع کر دیا۔اتنی روئی اتنی روئی کہ سب حیران رہ گئے اور وہ کسی کی طرح چپ کرنے میں نہ آئے آخر بہت دریافت کرنے پر اُس نے کہا کہ میں کیہوں کی کٹوری میں گڑ کے میٹھے چاول ڈال کر کھاؤں گی اس نے کسی کھلائی کی لڑکی کو اس طرح کیہوں کی کٹوری میں گڑ کے میٹھے چاول ڈال کر کھاتے دیکھا تھا بس اس کی نقل کے شوق میں اس نے بھی ضد کر لی اور رونا شروع کر دیا۔چنانچہ اسے چاول پکا کر دیئے گئے اور کیہوں کی کٹوری میں ڈال کر اس کے آگے رکھے گئے وہ لے کر کہنے لگی میں اسی جگہ زمین پر بیٹھ کر کھاؤں گی جہاں اس نے کھائے تھے۔چنانچہ وہ زمین پر وہیں بیٹھی جہاں اس نے اپنی کھلائی کی لڑکی کو بیٹھے دیکھا تھا اور میٹھے چاول کھائے۔اسی طرح مجھے اپنا بھی ایک لطیفہ یاد ہے میں اُس وقت گودیوں میں اٹھایا جاتا تھا ان دنوں میری آنکھیں سخت دیکھنے آئیں شدت تکلیف سے میں رورہا تھا کہ ایک عورت نے مجھے اُٹھا لیا اور ادھر اُدھر پھرنا شروع کر دیا۔اُس عورت کو چونکہ بھوک لگی ہوئی تھی اس لئے اُس نے رات کی باسی روٹی لے کر ٹہلتے ٹہلتے کھانی شروع کر دی۔مجھے ساری عمر میں کبھی کسی چیز کے متعلق اتنی شدید حرص پیدا نہیں ہوئی جتنی اُس دن پیدا ہوئی۔میں آنکھوں کے درد سے روتا جارہا تھا اور میری سب سے بڑی خواہش اُس وقت یہ تھی کہ رات کی باسی روٹی اس وقت ہو تو میں اُسے ٹہل ٹہل کر