خطبات محمود (جلد 17) — Page 294
خطبات محمود ۲۹۴ سال ۱۹۳۶ء میں فرمایا کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وہ لوگ جو تیری اتباع کریں گے وہ تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں مجھے یہ الہام ہوا تھا اور اُس وقت میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہے کیونکہ میں نہیں سمجھ سکتا تھا کہ لوگ میری مخالفت کریں گے اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے مخالفوں اور موافقوں کے گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے مگر آج میں سمجھتا ہوں دوسرے الہاموں اور کشوف اور رؤیا کی وجہ سے اور ان حالات کی وجہ سے جو میرے پیش آرہے ہیں کہ یہ الہام میرے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ایسے مقام پر کھڑا کیا کہ دنیا اس کی مخالفت کی کیلئے آگئی۔بیرونی مخالف بھی مخالفت کیلئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور منافق بھی اپنے سروں کو اُٹھا کر یہ سمجھنے لگ گئے کہ اب ان کی کامیابی کا وقت آگیا لیکن میں ان سب کو حضرت نوح کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ جاؤ اور تم سب کے سب مل جاؤ اور سب مل کر اور اکٹھے ہو کر مجھ پر حملہ کرو اور تم مجھے کوئی کی ڈھیل نہ دو اور مجھے تباہ کرنے اور مٹانے کیلئے متحد ہو جاؤ پھر بھی یاد رکھو خدا تمہیں ذلیل اور رسوای کرے گا، تمہیں شکست پر شکست دے گا اور وہ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب کرے گا۔میں اپنی مشکلات کو سمجھتا ہوں، میں بلاؤں اور آفات کو سمجھتا ہوں، میں راستہ کے مصائب اور بھیا نک نظاروں کو سمجھتا ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ جس کام کو میں نے اپنے سامنے رکھا تھی ہے اس جیسا عظیم الشان کام اپنے سامنے رکھنے کے بعد انسان کیلئے دو ہی راستے ہوتے ہیں یا تو فتحی کا جھنڈا اُڑا تا ہوا گھر کو لوٹے یا اسی کوشش میں اپنی جان اپنے خدا کے سپر د کر دے اس کے سوا اور کی کوئی چیز نہیں جسے وہ قبول کر سکے اور میں نے بھی سوچ کر اور سمجھ کر اور تمام حالات کو جانتے ہوئے کی اپنا قدم اُٹھایا ہے۔پس تم میں سے وہ منافق جو اپنے آپ کو بڑا نمازی سمجھتے اور مسجدوں میں آ آکر گریہ وزاری کرتے ہیں تم میں سے وہ منافق جو اپنے آپ کو بڑا عاقل اور دانا سمجھتے ہیں تم میں سے وہ منافق جو اپنے آپ کو بڑا مد بر سمجھتے ہیں، تم میں سے وہ منافق جو اپنے آپ کو بڑا بہادر سمجھتے ہی ہیں ، تم میں سے وہ منافق جو اپنے آپ کو بڑا چالاک سمجھتے ہیں ، وہ اپنی چالا کیوں اور اپنی تدبیروں کے درا اپنے اثروں اور اپنے علموں اور اپنے ظاہری تقویٰ اور لستانی اور اپنی ہر اُس چیز کو لے کر جو انہیں حاصل ہے میرا مقابلہ کریں پھر دیکھ لیں کہ نہ ان کی خفیہ تدبیریں انہیں کام دیں گی اور نہ ان