خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 293

خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۶ ہوتے ہیں کہ خواہ مکمل سامان انہیں حاصل نہ ہوں پھر بھی وہ اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں اور ی کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن نوے فیصدی عموماً ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں کہ جب تک سامان ان کیلئے کی میسر نہ ہوں اُس وقت تک وہ کوئی کمال حاصل نہیں کر سکتے۔پس میں تو انگریزی اور عربی دونوں کی کے متعلق اس فکر میں ہوں کہ اس طرح سکھائی جائیں کہ انسان اپنے تمام خیالات کا ان میں اظہار کر سکے اور لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے متعلق میری یہ سکیم ہے جب خدا تعالیٰ توفیق دے گا یہ بات پوری ہو جائے گی۔غرض ایک طرف منافقین کی یہ چالیں ہیں اور دوسری طرف دشمن کی مخالفانہ چالیں ہیں لیکن میں سب کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اول تو جاننے والے جانتے ہیں کہ ان باتوں میں سے سوائے دو باتوں کے جن میں کچھ کچھ سچائی کی ملونی پائی جاتی ہے باقی سب باتیں ایسی ہی جھوٹی ہیں جیسے پنجابی میں کہتے ہیں "نزائون ہی گنہیا ہے اس قسم کے جھوٹ روحانی جماعتوں کے متعلق بجائے کی بداثر پیدا کرنے کے ہمیشہ انہیں فائدہ پہنچایا کرتے ہیں کیونکہ لوگ خود سمجھ جاتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔لیکن میں تو ان چیزوں پر انحصار ہی نہیں رکھتا میں جانتا ہوں کہ جب میں جماعت کی اصلاح کیلئے کوئی قدم اُٹھاؤں کمزور اور منافق لوگ چیخنے لگ جاتے ہیں۔پس دنیوی نقطہ نگاہ سے میں سمجھتا ہوں میں اپنے راستہ میں کانٹے بورہا ہوں۔مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ مؤمن بغیر کا نٹور پر چلے منزل مقصود پر نہیں پہنچا کرتا۔ہماری جماعت لاکھوں کی ہے یا ہزاروں کی ، مؤمنوں کی ہے یا منافقوں کی مخلصوں کی ہے یا کمزوروں اور مترددوں کی ، اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے لیکن جماعت کی خواہ کوئی تعداد می ہو، جماعت کی خواہ کوئی حالت ہو میں یہ جانتا ہوں اور اُس وقت سے مجھے اس کا علم دیا گیا تھا جب کی مجھے ابھی یہ بھی پتہ نہ تھا کہ خلافت کیا چیز ہوتی ہے۔جب مجھے اس بات کا بھی علم نہ تھا کہ خلافت کے مقام پر ایک زمانہ میں مجھے کھڑا کیا جائے گا، جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ تھے اور میری عمر پندرہ سولہ سال کی تھی، مجھے اُس وقت ہی بتادیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک ایسے مقام پر کھڑا کرے گا جس کی لوگ سخت مخالفت کریں گے مگر قیامت تک میرے ماننے والے میرے منکروں پر غالب رہیں گے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا اور نہایت ہی زوردار الفاظ