خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 292

خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۶ اس لئے اگر کسی سے عربی میں گفتگو کرنے کا موقع آئے تو وہ پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں حالانکہ علم سکھنے سے غرض یہی ہوتی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ہماری لڑکیوں کی انگریزی کی تعلیم میں یہ نقص خاص طور پر موجود ہے لڑکوں کی تعلیم میں بھی ہے مگر لڑکیوں کی تعلیم میں یہ نقص بہت زیادہ ہے زبانیں سکھائی جاتی ہیں مگر بولنا نہیں سکھایا جاتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی ایف۔اے تک تعلیم پالیتی ہے، بی۔اے ہو جاتی ہے لیکن جب اُس سے بات کرو تو اُس کی زبان پر Yes اور No کے الفاظ تک نہیں آ سکتے۔یہ نقص تعلیم میں اس لئے واقعہ ہے کہ لڑکیوں اور لڑکوں کو انگریزی اور عربی کی میں بولنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی مشق نہیں کرائی جاتی حالانکہ جن لوگوں کو بولنے کی مشق ہو وہ تھوڑی سی تعلیم حاصل کر کے بھی اپنے مافی الضمیر کا بخوبی اظہار کرنے لگ جاتے ہیں۔غرض انگریزی تعلیم حاصل کرنا مغربیت کا اثر قبول کرنا نہیں بلکہ مغربیت کے کچلنے کا یہ ذریعہ ہے اور اس چیز کو ہم جس قدر جلد حاصل کر سکیں حاصل کرنا چاہئے ہاں یہ احتیاط ضروری ہے کہ ہماری لڑکیاں مغربی اثر قبول نہ کریں۔مگر زبان دانی کیلئے اگر ہم کوئی ایسا انتظام کریں جس سے ہمارے لڑکے اور لڑکیاں عربی اور انگریزی میں بخوبی گفتگو کر سکیں تو یہ بجائے قابلِ اعتراض امر ہونے کے مستحسن امر ہوگا۔میں تو اس فکر میں ہوں کہ کچھ اور انتظام کر کے چار پانچ ہوشیارلڑ کے مصر اور عرب میں بھجواؤں تا وہاں سے وہ زبان سیکھ کر آئیں اور پھر ایک بورڈنگ بنا دیا جائے جس میں ان کی زیر نگرانی لڑکوں کو عربی میں ہی گفتگو کرنے کی اجازت ہو۔تا جب وہ تعلیم سے فارغ ہوں تو عربی میں عمدگی سے تقریریں کرنے والے ہوں۔بھلا عربی یا انگریزی میں جب تک کوئی کی انسان تقریر نہیں کر سکتا اور اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا اُس وقت تک اُس زبان کے سیکھنے کا فائدہ کیا ہوسکتا ہے۔خالی کتابیں پڑھ لینا تبلیغ میں مفید نہیں۔ہو سکتا ہے ہماری جماعت میں اس کی وقت صرف چند ہی لوگ ہیں جو عربی میں تقریریں کر سکتے ہیں اور وہ بھی اس لئے کہ وہ کچھ عرصہ تک غیرممالک میں رہ چکے ہیں۔مثلاً ولی اللہ شاہ صاحب ہوئے ، یا شیخ عبد الرحمن صاحب مصری ہیں کہ وہ مصر میں رہ آئے ہیں، مولوی جلال الدین صاحب تمس ہیں ، مولوی اللہ دتہ صاحب ہیں ، ان کے بعد اللہ اللہ خیر صلا کسی نے دو چار فقرے بول لئے یا ایک دو علماء نے ہمت کر کے خود عربی میں بولنے کی مشق پیدا کر لی تو یہ اور بات ہے ہر شخص ایسی ہمت نہیں کر سکتا۔بعض ایسی ہمت والے