خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 262

خطبات محمود ۲۶۲ سال ۱۹۳۶ء آپ کی خاطر ہم اب تک آپ کے بھتیجے سے نرمی کرتے رہے ہیں مگر ہمارے سایہ کے نیچے رہتے ہوئے اس نوجوان نے ہمارے معبودوں کو بہت بُری طرح ذلیل کیا ہے ہم اس پر سختی کر سکتے تھے مگر ہمیں آپ کا لحاظ تھا اس لئے اس سے وہ سلوک نہ کیا جس کا وہ مستحق تھا مگر اب یہ بات ہمارے لئے نا قابل برداشت ہوگئی ہے اور ہم یہ آخری پیغام لے کر آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ اسے ی سمجھا ئیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنی تعلیم پیش نہ کرے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی پر سختی سے حملہ نہ کرے اور تبلیغ میں نرمی کا پہلور کھے اور اگر وہ آپ کے کہنے سے اتنا بھی کرنے کیلئے کی تیار نہ ہو تو آپ اس سے قطع تعلق کر لیں اور ہم پر اس کا معاملہ چھوڑ دیں اگر آپ اس کیلئے تیار نہیں ہیں تو گو ہمارے دلوں میں آپ کا ادب بہت ہے اور آپ کے خاندان کو فضیلت حاصل ہے لیکن اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ ہم صبر نہیں کر سکتے اور آپ سے بھی ہمیں مجبوراً قطع تعلق کرنا پڑے گا۔ابوطالب مؤمن نہ تھے اور ایمان کے بعد جس بہادری سے انسان کا تعلق ہو جاتا ہے اس کی سے محروم تھے وہ رئیس تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ریاست سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خطرہ تھا۔سا را مکہ اُن کو سلام کرتا تھا اور اب ان کے سامنے جو صورتِ حالات تھی اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا تھا کہ کوئی اُن کو منہ بھی نہ لگاتا اور یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔اس قسم کی عزتوں کیلئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں بھی کر دیتے ہیں اور ایک ایک سلام کیلئے مرا کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول سناب کرتے تھے کہ جب آپ تعلیم سے فارغ ہو کر نئے نئے بھیرہ میں آئے تو بعض مولویوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ یہ وہابی ہیں اور بعض نے آپ کے خلاف کفر کے فتوے کی تحریک شروع کی۔اُس وقت اس علاقہ میں ایک معزز پیر صاحب تھے جن کا بھیرہ اور نواح میں بہت اثر تھا اور کی فتوی کفر شائع کرانے والے ان کے پاس بھی گئے کہ دستخط کر دیں۔باقی مولویوں سے تو حضرت خلیفہ اول کے دوست نہ ڈرتے تھے مگر ان پیر صاحب کے متعلق انہیں ضرور خیال تھا کہ اگر یہ بھی تھی مولویوں کے ساتھ مل گئے تو فساد بڑھ جائے گا اس لئے آپ کے دوستوں میں سے ایک زیرک دوست پیر صاحب کے پاس پہنچے اور کہا کہ سنا ہے مولوی لوگ آپ سے فتویٰ لینے آئے تھے۔پیر صاحب نے کہا ہاں آئے تھے اور جو باتیں وہ کہتے ہیں ٹھیک ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ فتوی دے دوں۔اس پر اس دوست نے کہا کہ آپ تو پیر ہیں اور سب نے آپ کو سلام کرنا ہے نور دین خواہ